رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے اس برکت والے مہینہ میں قرآن مجید کے ساتھ مضبوط کرنے عبادات بجا لانے کے ساتھ ساتھ شہید مقدس اوراق کی حفاظت کا بھی عہد کیا جائے ۔ شہید مقدس کی حفاظت میں اہل ایمان کیلئے عظیم اجر وثواب کی بشارت ہے ، یہ دل میں تقوی کی علامت ہے ، نیکی اور ثواب میں اضافہ ہوتا ہے ، ا للہ کی خشنودی اور ملائکہ کی قربت حاصل ہوتی ہے ۔
ان خیالات کا اظہار خادم قرآن اور پنجاب قرآن بورڈ کے سابق ممبر محمد ناظم الدین نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ شہید مقدس اوراق خصوصاََ قرآن مجید کی آیات اور احادیث پر مشتمل صفحات کی حفاظت اور احترام ایمان کا حصہ اوراجر عظیم کا باعث ہے ۔ شعائر الہیٰ کی تعظیم قلبی تقویٰ کی علامت ہے ۔ شہید مقدس اوراق کو ادب سے اٹھانا ، انھیں محفوظ جگہ پر منتقل کرنا صرف مذہبی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ صدقہ جاریہ بھی ہے اور باعث خیر ، رحمت اور برکت بھی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے ناشران قرآن مجید کی طباعت اور اشاعت کیلئے غیر معیاری پیپر استعمال کرتے ہیں جس سے ہر ماہ بڑی تعداد میں قرآن مجید ، پارے اور قاعدے شہید ہوتے ہیں، جس سے ہر ماہ شہید مقدس اوراق کی ہزاروں ٹن بوریاں جمع ہوجاتی ہیں جنھیں محفوظ کرنا بذات خود ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے لہذا علما ء اساتذہ اور والدین سے گزارش ہے کہ وہ نئی نسل میں کلام الہیٰ اور شہید مقدس اوراق کی حفاظت کا شعور پیدا کریں ۔ غیر معیاری اور ناقص پیپر پر طبع شدہ قرآن مجید اور سیپارے خریدنے کی بجائے معیاری پیپر پر شائع شدہ قرآن مجید اور سیپارے خریدیں تاکہ ان کے شہید ہونے کا احتمال کم سے کم ہو ۔ اسلئے کہ شہید مقدس اوراق کی حفاظت ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہم کتاب الہیٰ کی عزت اور حفاظت کریں گے تو اللہ ہمیں عزت دے گا ۔ حکومت سے گزارش ہے کہ شہید مقدس اوراق کی حفاظت کا مضمون تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوسکے ۔
