اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر میزائل حملوں کی تصدیق کردی،
رپورٹ کے مطابق ایرانی دارالحکومت تہران کے مرکزی علاقوں میں کئی میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں، کئی مقامات سے دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ کردیا، درپیش خطرات کے باعث ایران پر پیشگی حملے کیے گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد اسرائیلی میزائل یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا پر گرے ہیں، یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہے،ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران کے مضافات اور کئی مقامات سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے ہیں، افراتفری کی صورتِ حال دیکھنے میں آ رہی ہے۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران کے مشرق میں ایک دھماکا سنا گیا جبکہ شمالی علاقوں میں مزید دو دھماکے ہوئے، یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہے جبکہ غیر ملکی خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے تہران کے مہرآباد ائیرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ اصفہان، قم، کرج اورکرمان شاہ، لورستان اور تبریز میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں۔
اسرائیل نے تہران کے مہرآباد ائیرپورٹ کو نشانہ بنایا،غیر ملکی میڈیا،اصفہان،قم،کرج،کرمان شاہ میں دھماکے
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی کی ڈیل نہ ہونے پر ناراض تھے، ایران پر امریکی حملے فضا اور سمندر سےجاری ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای تہران میں موجود نہیں ہیں، آیت اللہ خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ایران نے حملے کے بعد اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، عراق نے بھی فضائی ٹریفک معطل کردی۔
اسرائیل حملوں کے بعد ایران کے دارالحکومت میں مزید دھماکے سنے گئے، مرکزی علاقوں کے بعد سید خاندان کے علاقے میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں،اسرائیل نے ایران پر میزائل حملہ کردیا، تہران میں کئی مقامات پر میزائل گرے، دھماکوں کے بعد دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران میں افراتفری مچ گئی، اسٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ معطل کردی گئی۔فلائٹ ریڈار کی رپورٹ کے مطابق ایران میں موجود پروازوں کے رخ موڑ دیئے گئے ہیں۔اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد قطر میں امریکی سفارتخانے نے اہلکاروں کو شیلٹر میں جانے کی ہدایت کر دی،خبر ایجنسی کے مطابق امریکی سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ قطر میں امریکی شہری اگلے حکم تک شیلٹر میں رہیں۔
