امریکی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ریٹائرڈ امریکی کرنل ڈگلس میکگریگر نے دعویٰ کیا ہے کہ چین اور روس ایران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور مبینہ طور پر سیٹلائٹ انٹیلی جنس فراہم کر رہے ہیں، جس کے باعث ایران کو حالیہ جھڑپوں میں برتری حاصل ہوئی۔
پروگرام کے میزبان میٹ گیٹز کے سوال کے جواب میں میکگریگر نے کہا کہ چین اور روس بظاہر براہ راست جنگ میں شامل نہیں مگر پس پردہ تعاون کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران ایک بڑی آبادی اور وسیع رقبے کا حامل ملک ہے جس کی دفاعی صلاحیتیں برقرار ہیں اور اس کے میزائل نظام کو نمایاں نقصان نہیں پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو لاجسٹک چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ فوجی کارروائیوں کے لیے مسلسل سپلائی درکار ہوتی ہے، جبکہ ایران ایک زمینی طاقت ہونے کے باعث اندرونی وسائل پر زیادہ انحصار کر سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بعض صورتوں میں امریکی افواج کو متبادل بندرگاہوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو لاجسٹک مشکلات کا سامنا ہے اور بحری ضروریات کے لیے بھارت کی بندرگاہوں سے رجوع کیا جا رہا ہے، جو ان کے بقول مثالی صورتحال نہیں۔
میکگریگر نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ اسرائیل کب اس مرحلے پر پہنچے گا جہاں وہ سخت ترین آپشنز پر غور کرے۔
انہوں نے کہا کہ اس ممکنہ پیش رفت پر عالمی قیادت کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کیونکہ کسی بھی بڑے فیصلے کے خطے اور دنیا پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران کو چین و روس کی حمایت، اسرائیل کے جوہری آپشن پر خدشات: سابق امریکی کرنل
