اسلام کے پانچویں بنیادی رکن، حج کا آغاز ہو چکا ہے اور دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج اس وقت حج کے رکنِ اعظم یعنی وقوفِ عرفات کی ادائیگی کے لیے میدانِ عرفات میں موجود ہیں۔
امسال مسجد نمرہ میں مسجد نبویﷺ کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی خطبہ حج دیں گے، جسے سننے کے لیے عازمین کا ایک بڑا سمندر میدانِ عرفات میں یکجا ہو چکا ہے خطبہ حج کے بعد عازمینِ حج یہاں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے نمازوں کی ادائیگی کے بعد تمام عازمینِ حج غروبِ آفتاب تک مسلسل تلاوتِ قرآن، استغفار اور دعاؤں میں مصروف رہیں گے۔
میدانِ عرفات میں وقوفِ عرفہ کے بعد، حجاج کرام غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی مزدلفہ کی جانب روانہ ہوں گےعازمینِ حج مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے اور سنتِ نبویﷺ کے مطابق رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے اسی قیام کے دوران حجاج کرام اگلے دن کے مناسک یعنی ”رمی“ کے لیے کنکریاں بھی جمع کریں گے۔
اگلے روز یعنی 10 ذوالحجہ کو عازمینِ حج جمرات میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا فریضہ انجام دیں گے پہلے دن بڑے شیطان کو کنکریاں ماری جائیں گی رمی جمرات کے فوری بعد عازمینِ حج قربانی کریں گے اور پھر بال منڈوائیں گے اور اپنا احرام کھول دیں گےاس کے بعد حجاج کرام مکہ مکرمہ جا کر طوافِ زیار ت اور صفا و مروہ کی سعی کریں گے اور مناسکِ حج کی تکمیل کے بعد واپس منیٰ کی خیمہ بستی کا رخ کریں گے۔
11 ، 12 اور 13 ذوالحج کے ایام میں منیٰ میں قیام واجب ہے۔ ان ایام میں روزانہ زوال کے بعد تینوں شیطانوں کو 7، 7 کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ 12 ذوالحجہ کو رمی کے بعد مکہ واپسی کی اجازت ہوتی ہے، ورنہ 13 کو رمی کر کے واپسی ہوتی ہےحج کے تمام ارکان مکمل کرنے کے بعد آخری بار کعبہ کا طوافِ وداع کیا جاتا ہے یہ طواف صرف ان لوگوں پر واجب ہے جو حدودِ حرم سے باہر کے رہنے والے ہوں یوں لاکھوں عازمینِ حج کے خشوع و خضوع، ایثار، قربانی اور گریہ و زاری کے ساتھ یہ عظیم الشان اور مقدس فریضہ اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے-
