ہر طرف گولیوں کی ترتراہٹ،خوف کی فضاء،دنیا میں امن کب ہوگا؟
طاقتوراندھے،کمزور دہائیوں تک محدود،بارود برسانے والوں کاہاتھ کون روکےگا؟
انسان نے چاند اور جدید ٹیکنالوجی دیکھ لی ،نفرت اور آگ کا دریا عبورنہ کرسکا ،کیوں؟
زمین اللہ کی ملکیت،تنازعات کا حل مذاکرات،پھر جنگ کیسی،ذمہ داری کون لےگا
تجزیہ ،شہزاد قریشی
لکھیں تو کیا لکھیں؟ جب فضا ءمیں بارود کی بو ہو، معصوم جانیں مٹی تلے دب رہی ہوں اور دنیا بھر میں عام آدمی خوف کے سائے میں جی رہا ہو تو الفاظ بھی شرمندہ ہو جاتے ہیں، آج ہر طرف جنگی ماحول نے دلوں کو بوجھل کر دیا ہے، سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ امن کہاں ہے؟دنیا میں اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے موجود ہیں، قراردادیں بھی منظور ہوتی ہیں، بیانات بھی جاری ہوتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں ، گولیاں رکتی نہیں، بم گرتے رہتے ہیں اور عام آدمی سسکتا رہتا ہے،مسئلہ اداروں کی موجودگی کا نہیں، ان کے مؤثر اور غیر جانبدار کردار کا ہے،جب عالمی فیصلے طاقتور ممالک کے مفادات کے تابع ہو جائیں تو انصاف کمزور پڑ جاتا ہے اور انسانی حقوق محض کاغذی الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ادارے صرف مذمت تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں، بڑی طاقتیں اپنی انا اور مفادات سے بالاتر ہو کر جنگ بندی کو یقینی بنائیں، اسلحے کی دوڑ کو روکا جائے اور تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے،
میڈیا بھی اپنی ذمہ داری سمجھے اور جنگ کو سنسنی خیزی کے بجائے انسانی المیے کے طور پر پیش کرے، سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام اجتماعی آواز کو اتنا مضبوط بنائیں کہ حکمرانوں کو امن کا راستہ اختیار کرنا پڑے،یہ زمین خدا کی امانت ہے، اسے نفرت اور آگ کا میدان بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے، اگر طاقت انصاف کے تابع ہو جائے تو جنگیں رک سکتی ہیں، اگر قیادت میں اخلاص آ جائے تو خون بہنا بند ہو سکتا ہے،ورنہ تاریخ یہ لکھے گی کہ انسان چاند پر پہنچ گیا، سمندروں کی گہرائیاں ناپ لیں، ٹیکنالوجی کی بلندیاں چھو لیں، مگر اپنی ہی زمین پر امن قائم نہ کر سکا اور اپنے ہی جیسے انسان کو تحفظ نہ دے سکا،بقول شاعر، دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے،لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
