مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے مبینہ طور پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی تیز کر دی ہے، جس کے تحت قفقاز کے علاقے میں واقع اہم تیل پائپ لائن Baku‑Tbilisi‑Ceyhan pipeline کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ پائپ لائن آذربائیجان کے خام تیل کو Georgia کے راستے ترکی کی بحیرۂ روم کی بندرگاہ تک پہنچاتی ہے اور عالمی توانائی مارکیٹ میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے جانے والا تیل اسرائیل کی تیل کی ضروریات کا تقریباً 30 فیصد پورا کرتا ہے، جس کے باعث اس حملے کو خطے میں جاری جنگی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم اسٹریٹجک اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے صرف آبنائے ہرمز تک محدود رہنے کے بجائے توانائی کی سپلائی لائنز کو مرحلہ وار نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت خلیج فارس سے لے کر قفقاز اور پھر بحیرۂ روم تک ان راستوں کو متاثر کیا جا رہا ہے جن کے ذریعے ایران کے مخالف اتحاد کو توانائی فراہم ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ محض جوابی کارروائی نہیں بلکہ ایک منظم معاشی دباؤ کی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد ان ممالک کے لیے جنگ جاری رکھنے کی قیمت بڑھانا ہے جو ایران پر حملوں میں شامل رہے ہیں۔
توانائی مارکیٹ کے تجزیہ کار اور کمپنی FGE کے مشرقِ وسطیٰ کے منیجنگ ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر تیل کے پیداواری میدانوں اور پائپ لائنوں پر حملے جاری رہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 90 سے 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ان کے مطابق ابھی تک صورتحال اپنی انتہا تک نہیں پہنچی اور آئندہ دنوں میں مزید سنگین پیش رفت کا امکان موجود ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران مستقبل میں خطے کی دیگر اہم توانائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے،
