تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں آج یومِ القدس کے موقع پر نکالی جانے والی بڑی ریلی کے دوران ہونے والے حملے میں ایک خاتون کی موت ہوئی ہے
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ریلی کے قریب متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اس مہلک حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ اس سے قبل جمعہ کے روز اسرائیل کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ وہ تہران میں بعض مقامات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب ہزاروں افراد فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقد ہونے والی یومِ القدس ریلی میں شریک تھے۔ دھماکوں کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر موجود رہے اور ریلی جاری رہی۔
یاد رہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اپنے پہلے پیغام میں عوام سے یومِ القدس کے اجتماعات میں بھرپور شرکت کی اپیل کی تھی، جس کے بعد ملک بھر سے بڑی تعداد میں لوگ تہران پہنچے۔
ریلی میں ایران کی اہم سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی جن میں صدر مسعود پزشکیان بھی شامل تھے۔ اس موقع پر معروف عالم دین علیرضا اعرافی نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات کے باعث اس سال کی یومِ القدس ریلی گزشتہ برسوں سے مختلف ہےان کا کہنا تھا کہ “ہم سپریم لیڈر کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے دشمن کو للکارنے والی عوامی موجودگی پر قوم کے شکر گزار ہیں۔”حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز نے ریلی کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔
