آج کی دنیا سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی کے باوجود بے چینی اور عدمِ استحکام کا شکار نظر آتی ہے۔ مختلف خطوں میں جاری جنگیں اور سیاسی کشیدگیاں انسانیت کے لیے ایک بڑا سوال بن چکی ہیں۔ طاقتور ممالک کی سیاسی اور فوجی رقابتوں کا سب سے زیادہ اثر عام انسان پر پڑ رہا ہے۔ عام آدمی مہنگائی، عدمِ تحفظ، ہجرت اور خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
بیسویں صدی میں دنیا نے دو بڑی تباہ کن جنگیں دیکھیں: World War I اور World War II۔ ان جنگوں نے کروڑوں انسانوں کی جانیں لے لیں اور دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ان سانحات کے بعد عالمی امن قائم کرنے کے لیے اقوام متحدہ جیسے ادارے قائم کیے گئے تاکہ ممالک کے درمیان تنازعات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں جنگیں جاری ہیں۔
موجودہ دور میں عالمی سیاست کے مرکز میں بڑی طاقتیں اور ان کے مفادات ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ عالمی سیاست اور فوجی طاقت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی عالمی سطح پر اثر ڈالتی ہے۔ اسی طرح یورپ میں جاری روس یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل حماس جنگ جیسے تنازعات نے دنیا کے امن کو شدید متاثر کیا ہے۔
ان جنگوں کی بنیادی وجوہات میں سیاسی مفادات، قدرتی وسائل پر قبضہ، علاقائی بالادستی، نظریاتی اختلافات اور عالمی طاقتوں کی رقابت شامل ہیں۔ جب ممالک اپنے مفادات کو انسانیت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں تو تنازعات شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں، معیشتیں کمزور ہو جاتی ہیں اور معاشروں میں خوف اور عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔
عام آدمی آج واقعی تھک چکا ہے۔ وہ مسلسل مہنگائی، بے یقینی اور جنگوں کے خطرات میں زندگی گزار رہا ہے۔ ایک مزدور، کسان یا متوسط طبقے کا فرد چاہتا ہے کہ دنیا میں سکون اور استحکام ہو تاکہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں مطمئن ہو سکے۔ عام انسان کو جنگ نہیں بلکہ امن، روزگار اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق چاہیے۔
بین الاقوامی سطح پر امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ طاقتور ممالک ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ جنگ کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور انصاف پر مبنی فیصلوں کو ترجیح دی جائے۔ عالمی اداروں کو بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ تنازعات کو بڑھنے سے پہلے ہی حل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی انصاف، تعلیم اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔
آخرکار دنیا میں پائیدار امن صرف طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف، برداشت اور انسانیت کے ذریعے قائم ہو سکتا ہے۔ اگر عالمی رہنما اپنے سیاسی اور معاشی مفادات سے بڑھ کر انسانیت کے درد کو سمجھیں تو دنیا میں جنگوں کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ آج پوری دنیا کا عام انسان یہی دعا اور امید رکھتا ہے کہ جنگوں کے بجائے امن، سکون اور بھائی چارے کا دور آئے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور بہتر دنیا میں زندگی گزار سکیں۔
