امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اس وقت پوری امتِ مسلمہ کو سر جوڑ کر بیٹھ کر اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہوگا، امریکہ اور مغربی دنیا کی پالیسیوں کے نتائج آج پوری امتِ مسلمہ کے سامنے آ چکے ہیں،
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور بیت المقدس صرف ایران نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہیں، فلسطین اور القدس کے مسئلے پر امتِ مسلمہ کو متحد اور مضبوط مؤقف اختیار کرنا ہوگا، بدقسمتی سے اسلامی دنیا داخلی اختلافات اور لڑائیوں میں الجھ گئی ہے پاکستان اس وقت پیچیدہ علاقائی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، بھارت کے ساتھ مشرقی سرحد اور افغانستان کی جانب مغربی سرحد کشیدہ صورتحال کا شکار ہے، موجودہ حالات میں پاکستان کے علاقائی اور عالمی تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ ضروری ہے، الزام تراشی یا ایک دوسرے کو غلط قرار دینا مسائل کا حل نہیں، ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے، پاکستان کے اہم سفارتی اور دفاعی معاملات پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اِن کیمرہ اجلاس بلایا جائے، قومی سلامتی کے معاملات پر عوامی نمائندوں کو کھل کر اظہارِ رائے کا موقع ملنا چاہیے، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ قوم اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں، حساس قومی معاملات کو جلسوں اور گلی کوچوں کی سیاست کا موضوع نہیں بنانا چاہیے، پاکستان کے مستقبل کیلئے سیاسی اور سفارتی راستے اختیار کرنا ہوں گے، ہمیں خطے میں پرامن اور اچھے ہمسایہ تعلقات کو فروغ دینا ہوگا، جنگ سے امن پیدا نہیں ہوتا، جنگ مزید جنگ کو جنم دیتی ہے، خطے میں جنگ کی آگ بھڑکی تو اس کی لپیٹ میں سب آ جائیں گے، جمعیت علماء اسلام نے پارلیمنٹ کے فلور پر اِن کیمرہ اجلاس کی تجویز دی ہے،
