سیاسی مخالفت یا معلوماتی جنگ؟ سرکاری طیارہ معاملہ خبر اور پروپیگنڈے کی حدیں واضح کرنے لگا
الزامات، وضاحتیں اور سچ کی تلاش سرکاری طیارے کی بحث نے ذمہ دارانہ صحافت کا سوال کھڑا کر دیا
سیاسی بیانیے اور سوشل میڈیا کی گرد میں چھپتے حقائق، سرکاری طیارہ بحث نے تحقیق اور تصدیق کی اہمیت بڑھا دی
رپورٹ شہزاد قریشی
پروپیگنڈا، حقیقت اور ذمہ دارانہ صحافت، حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت کی جانب سے حاصل کیے گئے ایک سرکاری طیارے کے بارے میں سوشل میڈیا پر مختلف دعوے اور الزامات گردش کر رہے ہیں۔ ان الزامات کا رخ بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم جب ان دعوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کئی باتیں یا تو سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کی گئی ہیں یا پھر ان کی بنیاد غیر مصدقہ اطلاعات پر ہے۔حکومت پنجاب کے مطابق جس طیارے کو سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے، وہ کوئی نیا جہاز نہیں بلکہ 2019 ماڈل کا طیارہ ہے، یعنی تقریباً سات سال پرانا۔ اس کے باوجود اسے ایک بالکل نئے اور مہنگے جہاز کے طور پر پیش کرنا حقیقت کے برعکس قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ قواعد و ضوابط کے مطابق حاصل کیا گیا اور اس کی مکمل تکنیکی جانچ اور کارکردگی کے جائزے کا عمل بھی اسی طریقہ کار کا حصہ ہے۔
اسی تناظر میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ طیارہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا تک کسی نجی یا غیر ضروری سفر کے لیے بھیجا گیا۔ تاہم حکومتی وضاحت کے مطابق یہ پرواز دراصل طیارے کی تکنیکی جانچ اور کارکردگی کی تصدیق کے لیے تھی۔ ایوی ایشن کے معمول کے ضابطوں کے مطابق اس نوعیت کی ٹیسٹ پروازوں کے اخراجات عموماً فروخت کنندہ کمپنی برداشت کرتی ہے، تاکہ طیارے کی حفاظت، کارکردگی اور معیار کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔مزید برآں سوشل میڈیا پر یہ الزام بھی گردش کرتا رہا کہ جنید صفدر اپنی اہلیہ کے ساتھ اسی طیارے میں ویانا گئے۔ حکومتی موقف کے مطابق یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔
واضح رہے کہ بیرون ملک کسی بھی شہری کے سفر کا ریکارڈ امیگریشن نظام میں موجود ہوتا ہے، جس کی باآسانی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اس نوعیت کے الزامات کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھنا مشکل نہیں۔ اس ساری بحث کے دوران ایک اور پہلو بھی سامنے رکھا گیا ہے کہ شریف خاندان کی ایک دیرینہ روایت رہی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں زیادہ تر وقت خاندان کے ساتھ گزارتے ہیں۔ ماضی میں سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اپنی سیاسی مصروفیات کے باوجود اس مہینے کو خاندانی اجتماع اور عبادات کے لیے مخصوص رکھنے کی روایت نبھاتے رہے ہیں۔ اصل سوال یہاں یہ نہیں کہ ایک طیارہ کب خریدا گیا یا وہ کہاں گیا، بلکہ یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی بھی خبر یا دعوے کو بغیر تصدیق کے پھیلانا مناسب ہے؟ جدید دور میں اطلاعات کی رفتار بہت تیز ہو چکی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذمہ دارانہ صحافت اور حقائق کی تصدیق کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اختلاف کو پروپیگنڈے کی شکل دینے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر گفتگو کی جائے۔ اگر کسی معاملے میں سوالات ہیں تو انہیں شواہد اور دستاویزات کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے، نہ کہ قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ اطلاعات کے ذریعے۔ آخرکار جمہوری معاشروں میں شفافیت، احتساب اور ذمہ دارانہ مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو عوامی اعتماد کو مضبوط بناتا ہے اور سیاسی مباحثے کو صحت مند رکھتا ہے.
