مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران جمعرات کے روز حیفہ میں واقع آئل ریفائنری کمپلیکس پر ایرانی میزائل حملہ کیا گیا، جس کی تصدیق تین اسرائیلی ذرائع نے بین الاقوامی میڈیا کو کی ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق میزائل حملہ مرکزی ریفائنری کمپلیکس کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جو اسرائیل کی سب سے بڑی توانائی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور حیفہ بے کے علاقے میں ایندھن اور کیمیکل پیداوار کا بڑا مرکز ہے۔حملے کے فوری بعد ریسکیو اور ایمرجنسی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور نقصان کا جائزہ لینے کا عمل شروع کردیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ملی، تاہم صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔اسرائیل کی فائر اینڈ ریسکیو اتھارٹی کے مطابق فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں جبکہ دیگر ٹیمیں ممکنہ خطرناک کیمیکل مواد کے اخراج کے خدشے کے پیش نظر علاقے کی مکمل تلاشی لے رہی ہیں۔ حکام نے قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے نہ صرف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست جھڑپوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اسرائیل کے پاس صرف دو ریفائنریاں ہیں۔حیفا ریفائنری (بازان) اسرائیل کی سب سے بڑی اور انتہائی اہم ریفائنری ہے جو ملک کے تقریباً 50–60 فیصد ایندھن کی فراہمی کرتی ہے (60% ڈیزل اور 50% پٹرول)۔ یہ روزانہ تقریباً 197,000 بیرل تیل پروسیس کرتی ہے، یعنی اسرائیل کی نقل و حمل، ہوا بازی اور فوجی ایندھن کا بڑا حصہ اسی پر منحصر ہے۔ ایرانی میزائلوں نے ابھی اس کو نشانہ بنایا ہے۔
