متعدد یورپی ممالک اور جاپان نے مشترکہ بیان میں خلیج میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش پر ایران کی شدید مذمت کی ہے۔
بیان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز اور جاپان کے رہنماؤں نے کہا کہ غیر مسلح تجارتی جہازوں، تیل و گیس تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی عملی بندش نے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کو متاثر کر دیا ہے، جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رہنماؤں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر دھمکیوں، بارودی سرنگوں کی تنصیب، ڈرون اور میزائل حملوں اور بحری راستے کی بندش جیسے اقدامات بند کرے۔
مشترکہ بیان میں تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ شہری تنصیبات، خصوصاً تیل و گیس کے انفراسٹرکچر پر حملوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے جامع اقدامات کریں۔
ممالک نے یہ بھی کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں، جبکہ توانائی کی عالمی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر پیداوار بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
یورپی ممالک اور جاپان کی ایران پر شدید تنقید، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ
