ایران جنگ کے باعث سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو ہتھیاروں کی برآمدات روکنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے غیر جانبداری کی پالیسی کے تحت اہم فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سوئس حکومت کے مطابق امریکا کو جنگی سامان کی برآمدات کی فی الحال اجازت نہیں دی جا سکتی اور اس حوالے سے کمپنیوں کو لائسنس جاری نہیں کیے جائیں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی ایسے ملک کو اسلحہ فراہم نہیں کیا جائے گا جو ایران کے ساتھ جاری مسلح تصادم میں شامل ہو۔
حکومت نے واضح کیا کہ تنازع کے دوران غیر جانبداری برقرار رکھنا ضروری ہے، اسی لیے جنگی سامان کی ترسیل محدود کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل سوئٹزرلینڈ نے امریکا کی کچھ جنگی پروازوں کو اجازت دینے سے بھی انکار کیا تھا۔
دوسری جانب ایران جنگ کے اثرات عالمی سطح پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کے ممالک ہنگامی بنیادوں پر توانائی بحران اور سپلائی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے فوری فیصلے ناگزیر ہیں، جبکہ کئی ممالک آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راستہ یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کا امریکا کو اسلحہ برآمد کرنے سے انکار، ایران جنگ کے اثرات گہرے
