Baaghi TV

جنگ سے دفاعی کمپنیوں کی موج،28 ارب ڈالر کما لئے

امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق جنگوں کے باعث عالمی دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافے سے 28 ارب ڈالر سے زائدکی نئی دولت پیدا ہوئی ہے۔

بلوم برگ کے مطابق دفاعی کمپنیوں میں بڑی سرمایہ کاری رکھنے والے14 افراد اور خاندانوں کی دولت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دفاعی کمپنیوں کے بڑے شیئر ہولڈز کی مجموعی دولت میں 3 ماہ سےکم عرصے میں28 ارب ڈالرکااضافہ ہوا ہے،رپورٹ کے مطابق دولت میں اضافہ بنیادی طور پر دفاعی کمپنیوں کے شیئرز میں تیزی کے باعث ہوا ہے۔ میزائل، ڈرون اور الیکٹرانک جنگی نظام تیار کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا،اسلحہ سازی کے بنیادی پرزہ جات بشمول فیوز بنانے والی کمپنیوں کو بھی اس تیزی کا فائدہ ملا ہے۔ڈرون ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سےترقی کرتےہوئے روایتی کمپنیوں کو چیلنج کر رہاہے، حکومتیں تیزی سے اپنی افواج کو جدید بنانے اور اسلحہ بڑھانے کی دوڑ میں شامل ہوچکی ہیں۔ اسی رجحان نے دفاعی اسٹاک مارکیٹ میں غیر معمولی تیزی پیدا کی ہے۔ 2026 کے دوران عالمی دفاعی کمپنیوں کے انڈیکس میں 18 فیصد اضافہ ہوا جب کہ اس کے برعکس اسی عرصے میں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 3.2 فیصد کمی ریکارڈکی گئی۔

بلوم برگ کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی 6 دنوں میں ہی 11.3 ارب ڈالر خرچ کیے۔ پنٹاگون نےاس جنگ کو جاری رکھنےکے لیے مزید 200 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی درخواست بھی کردی ہے، اسرائیل کا دفاعی بجٹ بھی بڑھ کر 46 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو 2023 کے مقابلے میں 120 فیصد زیادہ ہے،یورپی یونین کے ممالک بھی دفاعی اخراجات میں تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں۔ روس کے 2022 میں یوکرین پرحملےکے بعد یورپی ممالک نے دفاعی بجٹ میں 60 فیصد سے زائد اضافہ کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےخاندان کے افراد بھی اس شعبے میں سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جنوبی کوریا، بھارت، اسرائیل اور فرانس کی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے اربوں ڈالر کمائے جا رہے ہیں۔

More posts