Baaghi TV


ایران میں امریکی پائلٹ کا خطرناک ریسکیو آپریشن، حیران کن تفصیلات سامنے

us

‎ایران میں گرائے گئے امریکی F-15E لڑاکا طیارے کے دوسرے پائلٹ کو بازیاب کروانے کے لیے کیے گئے خفیہ اور انتہائی خطرناک ریسکیو آپریشن کی نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جنہوں نے اس پورے واقعے کو مزید سنسنی خیز بنا دیا ہے۔
‎امریکی اخبار کے مطابق یہ آپریشن غیر معمولی نوعیت کا تھا جس میں امریکی فورسز نے بھرپور فضائی اور زمینی طاقت استعمال کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ زخمی امریکی پائلٹ تقریباً دو دن تک جنوبی مغربی ایران کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ایک دراڑ میں چھپا رہا، جبکہ ایرانی فورسز اور مقامی ملیشیا ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے ذریعے مسلسل اس کی تلاش میں مصروف تھیں۔
‎پائلٹ نے زمین پر اترنے کے بعد اپنا ایمرجنسی بیکن آن کیا جس سے امریکی حکام کو اس کے زندہ ہونے کا اشارہ ملا، تاہم اس کی درست لوکیشن معلوم کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ ایک موقع پر پائلٹ نے مختصر پیغام بھیجا کہ "گاڈ از گڈ”، جسے ابتدا میں امریکی حکام نے ممکنہ خطرہ یا جال سمجھا۔
‎اتوار کی صبح امریکی کمانڈوز نے شدید فائرنگ اور فضائی مدد کے ساتھ ایران کے اندر تقریباً 200 میل تک رسائی حاصل کی اور پائلٹ کو بحفاظت نکال لیا۔ اس دوران امریکی فورسز نے زمین پر موجود اپنے حساس طیاروں کو بھی تباہ کر دیا تاکہ کوئی جدید ٹیکنالوجی مخالف کے ہاتھ نہ لگ سکے۔
‎یہ واقعہ جمعے کے روز پیش آیا جب "ڈیوڈ 44” کال سائن والے F-15E طیارے کو ایرانی فورسز نے مار گرایا۔ طیارے میں موجود ایک پائلٹ کو فوری طور پر نکال لیا گیا جبکہ دوسرے کے لیے یہ پیچیدہ آپریشن شروع کیا گیا۔
‎ریسکیو مشن میں تقریباً 100 اسپیشل فورسز اہلکاروں کے ساتھ متعدد جنگی طیارے، ڈرونز اور ہیلی کاپٹر شریک تھے۔ سی آئی اے نے بھی خفیہ معلومات فراہم کرنے اور ایرانی فورسز کو گمراہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی وزیر دفاع اور عسکری قیادت نے فوری طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صورتحال سے آگاہ کیا، جنہوں نے آپریشن کی منظوری دیتے ہوئے پائلٹ کو ہر صورت واپس لانے کا حکم دیا۔
‎رپورٹ کے مطابق B-1 بمبار طیاروں نے درجنوں بھاری بم گرائے جبکہ MQ-9 ریپر ڈرونز نے ممکنہ خطرات کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی کوشش میں کچھ مشکلات بھی پیش آئیں جن میں ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ اور طیاروں کو نقصان پہنچنا شامل تھا، تاہم متبادل حکمت عملی کے تحت آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا۔
‎ذرائع کے مطابق اس مشن میں اسرائیل نے بھی انٹیلی جنس تعاون فراہم کیا، جس سے آپریشن کو کامیابی تک پہنچانے میں مدد ملی۔

More posts