سعودی عرب کے جُبیل پیٹروکیمیکل حب پر حملہ ہوا جہاں بڑے پیمانے پر آگ لگی – آخر ایران چاہتا کیا ہے ؟
ایران کی جانب سے سعودی عرب پر یہ تازہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امن مذاکرات ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے تھے، یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب پاکستان امریکہ سمیت دیگر اہم مسلم ممالک کے ساتھ مسلسل اور انتہائی سطح کے سفارتی رابطوں میں مصروف ہے،ایسے ماحول میں سعودی عرب کو نشانہ بنانا امن عمل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے،قابل غور بات یہ ہے کہ نشانہ فوجی نہیں بلکہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس بنایا گیا، جو معاشی انفراسٹرکچر ہے،یہ اقدام نہایت غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے
سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کچھ عناصر دانستہ طور پر امن کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ، ایسے اقدامات خود ایران کے مفادات کے بھی خلاف جا سکتے ہیں،بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اس نازک مرحلے پر کسی بھی جارحیت سے نہ صرف علاقائی امن بلکہ جاری سفارتی کوششیں بھی شدید متاثر ہو سکتی ہیں
