پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 274 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ کانفرنس کی صدارت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی، جس میں ملکی سلامتی اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق اجلاس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ فورم نے شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیا۔
کانفرنس میں سعودی عرب کے پیٹروکیمیکل اور صنعتی تنصیبات پر ہونے والے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ فورم کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے جاری مخلصانہ سفارتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
کور کمانڈرز نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب نے حالیہ اشتعال انگیزیوں کے باوجود تحمل اور ذمہ دارانہ رویہ اپنایا ہے، جو کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کا یہ طرز عمل ثالثی اور سفارتی حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہا ہے۔
فورم نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے حملے غیر ضروری کشیدگی کو جنم دیتے ہیں اور جاری امن عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بلاجواز جارحیت نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 274ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملکی سیکیورٹی، علاقائی صورتحال اور انسداد دہشتگردی کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی کی بنیاد ہیں اور ان کے مشن کو ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔ آرمی چیف نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور انٹیلی جنس بنیادوں پر جاری انسداد دہشتگردی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومت، افواج پاکستان اور عوام کے درمیان ہم آہنگی سے نہ صرف سیکیورٹی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں بلکہ معاشی استحکام بھی مضبوط ہو رہا ہے۔ فورم نے واضح کیا کہ بھارت اور دیگر بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کا بلا امتیاز خاتمہ کیا جائے گا۔
شرکاء نے آپریشن “غضب لِلحق” کی رفتار برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا یقینی بنایا جائے گا۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور سعودی عرب کی صنعتی تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ فورم نے کہا کہ ایسے حملے خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ سعودی عرب کے صبر و تحمل کو سراہا گیا۔
فورم نے بھارت کی جانب سے پھیلائے جانے والے جھوٹے بیانیے اور پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
