Baaghi TV

شمالی کوریا نے کلسٹر بم وارہیڈ سے لیس بیلسٹک میزائل تیار کر لیا

شمالی کوریا نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ رواں ہفتے کیے گئے ہتھیاروں کے تجربات میں مختلف نئے نظام شامل تھے، جن میں کلسٹر بم وارہیڈ سے لیس بیلسٹک میزائل بھی شامل ہیں۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کوریئن سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق یہ تجربات پیر سے شروع ہو کر تین روز تک جاری رہے، جن میں فضائی دفاعی ہتھیاروں، مبینہ برقی مقناطیسی (الیکٹرو میگنیٹک) نظاموں اور کاربن فائبر بموں کے مظاہرے بھی شامل تھے۔

ایجنسی کے مطابق حالیہ تجربات میں جوہری صلاحیت کے حامل ہواسانگ-11 بیلسٹک میزائلوں پر نصب کلسٹر وارہیڈ سسٹمز کا بھی مظاہرہ کیا گیا، جو ڈیزائن کے لحاظ سے روس کے اسکینڈر میزائلوں سے مشابہ ہیں اور کم بلندی پر پرواز اور دفاعی نظاموں سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایسے وارہیڈ سے لیس یہ قلیل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل 6.5 سے 7 ہیکٹر (16 سے 17.2 ایکڑ) کے رقبے کو انتہائی شدت کے ساتھ تباہ کر سکتا ہے تاہم جنوبی کوریا کی فوج نے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

منگل کی شب جاری بیان میں شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے فرسٹ نائب وزیر جانگ کم چول نے کہا تھا کہ جنوبی کوریا ہمیشہ شمال کا سب سے بڑا دشمن ملک رہے گا، اور سیئول کی لبرل حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے مذاکرات بحال کرنے کے اقدامات کو حیران کن حماقت قرار دیا۔

کوریئن سینٹرل نیوز ایجنسی کی رپورٹ اس کے ایک دن بعد سامنے آئی جب جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا تھا کہ اس نے مشرقی ساحلی علاقے سے دو دنوں میں دوسری بار متعدد میزائل داغے جانے کا سراغ لگایا جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق بدھ کو داغے گئے میزائل 240 سے 700 کلومیٹر تک پرواز کرنے کے بعد سمندر میں گرے، جبکہ منگل کو پیانگ یانگ کے قریب سے کم از کم ایک اور میزائل لانچ کیے جانے کا بھی پتہ چلا۔

جاپان کی وزارت دفاع نے کہا کہ بدھ کو داغے گئے کسی بھی ہتھیار نے اس کے خصوصی اقتصادی زون کی حدود میں داخل نہیں ہوا، جبکہ امریکی فوج کے مطابق منگل اور بدھ کے روز شمالی کوریا کے یہ تجربات امریکا یا اس کے اتحادیوں کے لیے فوری خطرہ نہیں تھے۔

More posts