بیروت: اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی تازہ فضائی کارروائی میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے سربراہ کے قریبی ساتھی کو شہید کر دیا گیا ہے، جبکہ لبنان بھر میں شدید بمباری کے نتیجے میں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حملے میں علی یوسف حارشی نامی شخص مارا گیا، جو حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کے قریبی مشیر اور ذاتی معاون تھے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ حارشی نہ صرف نعیم قاسم کے دفتر کے انتظامی امور سنبھالتے تھے بلکہ سیکیورٹی معاملات میں بھی مرکزی کردار ادا کرتے تھے۔آئی ڈی ایف کے بیان کے مطابق رات گئے بیروت میں کیے گئے حملے میں حرشی کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نے دریائے لیتانی کے شمال اور جنوب کے درمیان حزب اللہ کے جنگجوؤں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہونے والے دو اہم راستوں کو بھی نشانہ بنایا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران جنوبی لبنان میں اسلحے کے تقریباً 10 ذخائر، راکٹ لانچرز اور کمانڈ سینٹرز کو بھی تباہ کیا گیا۔دوسری جانب لبنان میں جاری اسرائیلی بمباری نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ملک بھر میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 254 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔دارالحکومت بیروت کے رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں صرف ایک دن میں 91 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ شہری علاقوں پر حملوں کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
