Baaghi TV

ایران امریکا معاہدہ فوری ممکن نہیں تھا: روس

iran

‎جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے میں روس کے نمائندے میخائیل اولیانوف نے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ نہ ہونا کوئی حیران کن بات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے پیچیدہ اور حساس معاملات پر چند گھنٹوں میں اتفاق رائے کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں تھا۔
‎میخائیل اولیانوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اگر کسی ایک فریق کو مکمل طور پر پیچھے ہٹنا پڑتا تو شاید معاہدہ ممکن ہو سکتا تھا، لیکن موجودہ صورتحال میں ایسا ہونا ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں، جس کی وجہ سے فوری پیش رفت مشکل نظر آتی ہے۔
‎انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا واقعی ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسے طویل سفارتی عمل کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ اس میں نہ صرف متعدد مذاکراتی دور شامل ہوں گے بلکہ ماہرین کی سطح پر بھی تفصیلی بات چیت ضروری ہوگی۔ ان کے بقول یہی مؤثر سفارت کاری کا بنیادی اصول ہے۔
‎یاد رہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے، تاہم دونوں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں پیش رفت سست ضرور ہوتی ہے، مگر مسلسل رابطہ ہی حل کی جانب پہلا قدم ہوتا ہے۔
‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کا یہ بیان عالمی سفارتی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑے تنازعات کے حل کے لیے صبر، وقت اور مستقل مذاکرات ناگزیر ہوتے ہیں۔

More posts