عصرِ حاضر کی بساط پر بچھا ہوا انسانی معاشرہ ایک ایسے تضاد کا شکار ہے جس کی مثال تاریخِ انسانی کے کسی بھی ورق میں نہیں ملتی۔ یہ صدی اپنے جلو میں ترقی کے جو چراغ لے کر آئی تھی، ان کی چکا چوند نے انسانی بصیرت کو اس حد تک خیرہ کر دیا ہے کہ اب ہمیں روشنی تو دکھائی دیتی ہے مگر راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ ہم ایک ایسے ہجومِ ناآشنائی کا حصہ بن چکے ہیں جہاں ہر شخص دوسرے سے جڑا ہوا (Connected) ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر حقیقت میں ہر فرد تنہائی کے ایک ایسے جزیرے پر مقیم ہے جس کے چاروں طرف خاموشی کا سمندر موجزن ہے۔
قدیم یونانی فلسفہ ہو یا مشرقی تصوف، انسان کو ہمیشہ "حیوانِ ناطق” یا "اشرف المخلوقات” کے طور پر اس کے سماجی اور روحانی رشتوں سے پہچانا گیا، مگر آج کا انسان "حیوانِ مشینی” کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہماری زندگیوں میں رفتار کا وہ تلاطم ہے جس نے سکونِ قلب کی متاع چھین لی ہے۔ ہم وقت کی دھول اڑاتے ہوئے اس منزل کی طرف گامزن ہیں جس کا کوئی نشان نہیں، اور اس بھاگ دوڑ میں ہم وہ لمحہ کھو بیٹھے ہیں جسے "ادراکِ ذات” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ان کہی اور ان دیکھی تھکن ہے جو ہڈیوں میں نہیں بلکہ روح کی گہرائیوں میں سرایت کر چکی ہے۔
ٹیکنالوجی کے اس عہدِ غلبہ میں انسانی جذبات کو "مصنوعی بصارت” (Artificial Vision) کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ وہ احساسات جن کے اظہار کے لیے کبھی غزل کے قافیے اور نظموں کے استعارے بھی کم پڑ جایا کرتے تھے، اب محض ایک "ایموجی” یا "ری ایکشن” کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ لفظوں کی حرمت پامال ہو چکی ہے کیونکہ اب وہ دل سے نہیں بلکہ مصلحتوں کی اسکرین سے جنم لیتے ہیں۔ ہم نے رفاقتوں کو "ڈیجیٹل سگنلز” میں مقید کر دیا ہے؛ ملاقاتیں اب باہمی لمس اور آنکھوں کی گفتگو سے عاری ہو کر بے جان پکسلز (Pixels) میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
ادب ہمیشہ سے انسانی ضمیر کا آئینہ دار رہا ہے، مگر آج کا انسان خارجی دنیا کے مصنوعی شور میں اتنا محو ہے کہ اسے اپنے اندر سے اٹھنے والی کراہیں سنائی نہیں دیتیں۔ ہم دوسروں کے "ڈیجیٹل اسٹیٹس” کو دیکھ کر اپنی زندگی کے معیار مقرر کرتے ہیں، مگر اپنی روح کے اس بوجھ کو بانٹنے کے لیے کوئی کندھا میسر نہیں پاتے جو اسے روز بروز کچل رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اب آنسو بھی اسٹوریز میں "نمائش” کے لیے رکھے جاتے ہیں اور دکھ کو بھی "پبلک ڈسپلے” کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ کرب جو کبھی صیغہِ راز میں رہ کر انسان کو کندن بناتا تھا، اب محض سستی شہرت کا ذریعہ بن گیا ہے۔
یہ دورِ ترقی دراصل "اجتماعی بیگانگی” کا عہد ہے۔ ہم ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے کئی افراد کے درمیان رہ کر بھی ان سے میلوں دور ہوتے ہیں۔ قربت کا مفہوم اب جسمانی موجودگی نہیں بلکہ "آن لائن” ہونا رہ گیا ہے۔ یہ ایک ایسی تنہائی ہے جو صحراؤں میں نہیں بلکہ بھرے مجمعوں میں پیدا ہوتی ہے—ایسی تنہائی جہاں آپ کے پاس "فرینڈ لسٹ” میں تو ہزاروں لوگ ہوں، مگر دستک دینے کے لیے کوئی ایک بھی دروازہ حقیقی نہ ہو۔
شاید مستقبل کا مورخ ہماری اس تہذیب پر نوحہ لکھتے ہوئے کہے گا کہ وہ لوگ کائنات کی تسخیر کے خواب دیکھتے تھے مگر اپنے وجود کی سرحدوں سے ناواقف تھے۔ انہوں نے جینے کے تمام اسباب تو فراہم کر لیے تھے، مگر "جینے کے ڈھنگ” سے محروم رہے۔ ہم نے سب کچھ پا لیا، مگر افسوس کہ اس سارے عمل میں ہم نے ایک دوسرے کو کھو دیا۔ یہ عہد دراصل اس حقیقت کا شاہد ہے کہ اگر احساس مر جائے تو انسان محض ایک گوشت پوست کا مشینی پرزہ بن کر رہ جاتا ہے
