Baaghi TV

سعودی تعاون سے پاکستان میں زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ

اسلام آباد: سعودی عرب کے تعاون سے پاکستان میں شروع کیے گئے جدید آبپاشی منصوبوں کے نتیجے میں گندم، چارہ اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی اور سعودی حکام نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اس پیش رفت کا اعلان کیا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون اور پانی کے مؤثر استعمال کے حوالے سے تفصیلات پیش کی گئیں۔تقریب میں سعودی عرب کے نائب وزیر زراعت ڈاکٹر سلیمان بن علی الخطیب نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان میں پائیدار زراعت کے فروغ کے لیے اپنا کردار مزید بڑھا رہا ہے اور اسی سلسلے میں گرین پاکستان انیشی ایٹو (GPI) کی بھرپور حمایت کی جا رہی ہے۔

گرین پاکستان انیشی ایٹو پاکستان حکومت اور افواج پاکستان کا مشترکہ زرعی منصوبہ ہے، جس کا مقصد ملک میں زرعی ترقی، بنجر زمینوں کی بحالی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کا فروغ ہے۔حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت اب تک پاکستان بھر میں 1 لاکھ 36 ہزار ایکڑ بنجر زمین قابلِ کاشت بنائی جا چکی ہے، جبکہ سرکاری و نجی شعبے کے 64 شراکت دار اس منصوبے میں شامل ہیں۔

گزشتہ سال سعودی عرب نے پاکستان کو 10 جدید ترین آبپاشی نظام فراہم کیے تھے، جنہیں ریکارڈ مدت میں نصب کیا گیا۔ حکام کے مطابق ان نظاموں کا مقصد پانی کے ضیاع کو روکنا، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا اور خشک علاقوں کو سرسبز بنانا ہے۔

گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو کے اسٹریٹیجک پراجیکٹس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل (ر) شاہد نذیر نے کہا “یہ 10 پیوٹ سسٹمز صرف 70 دنوں میں نصب کیے گئے، جو ایک ریکارڈ ہے۔”انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں کی بدولت پہلے غیر آباد زمینوں پر اب گندم، چارہ اور دیگر فصلیں کامیابی سے اگائی جا رہی ہیں۔

تقریب میں دکھائی گئی ایک دستاویزی فلم میں پنجاب کے شہر بھکر میں قائم ایک نمایاں منصوبے کو پیش کیا گیا، جہاں سعودی عرب کی فراہم کردہ جدید زرعی ٹیکنالوجی سے صرف تین ماہ میں بنجر زمین کو زرعی فارم میں تبدیل کر دیا گیا۔اس منصوبے کے تحت 5 ارب روپے مالیت کا جدید آبپاشی نظام نصب کیا گیا، جس سے تقریباً 1,500 ایکڑ غیر آباد زمین کو زرخیز زرعی رقبے میں تبدیل کیا گیا۔حکام کے مطابق جدید آبپاشی نظام کے استعمال سے گندم کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

روایتی آبپاشی طریقوں سے پیداوار: 28 سے 30 من فی ایکڑ،جبکہ جدید نظام سے پیداوار: 45 سے 50 من فی ایکڑ ہوئی ہے،یہ اضافہ پاکستان کی غذائی خود کفالت اور زرعی معیشت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

میجر جنرل (ر) شاہد نذیر نے کہا کہ حکومت چھوٹے کسانوں کے لیے بھی جدید زرعی نظام جیسے سپرنکلر سسٹم،ڈرِپ اریگیشن متعارف کرا رہی ہے، جن پر سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ بڑے منصوبوں کی کامیابی کو چھوٹے فارموں تک بھی پہنچایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ 2023 سے 2026 کے دوران قائم کیے گئے 64 جدید فارموں میں بلوچستان میں زیتون کے باغات،سندھ میں پام آئل فارمزبھی شامل ہیں، جس سے پاکستان کی زرعی پیداوار میں تنوع پیدا ہو رہا ہے۔ پاکستانی حکام نے کہا کہ یہ منصوبہ سعودی عرب کی غذائی تحفظ حکمتِ عملی سے بھی ہم آہنگ ہے، کیونکہ پاکستان کم فاصلے اور تیز تر لاجسٹکس کے باعث سعودی عرب کو زرعی اجناس کی بروقت اور کم لاگت فراہمی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر سلیمان بن علی الخطیب نے کہا “یہ فصلیں نہ صرف پاکستان کے لیے پائیدار زرعی پیداوار فراہم کریں گی بلکہ سعودی عرب کو برآمد بھی کی جا سکیں گی۔”

ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے ملک میں جدید آبپاشی نظام، بنجر زمینوں کی بحالی اور بین الاقوامی شراکت داری مستقبل کی زرعی ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ یہ تعاون نہ صرف زرعی پیداوار بڑھانے میں مدد دے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔

More posts