آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے تحفظ اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں ایک بڑے کثیرالقومی فوجی مشن کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ عالمی سطح پر اس پیش رفت کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ راستہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں 30 سے زائد ممالک کے فوجی ماہرین اور منصوبہ ساز آج بدھ 22 اپریل کو دو روزہ اہم کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنا ہے تاکہ جنگ بندی کے بعد فوری طور پر اس پر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔
یہ اہم اجلاس شمالی لندن کے علاقے نارتھ ووڈ میں واقع برطانیہ کے مستقل مشترکہ ہیڈکوارٹر میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں مختلف ممالک کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس مشن کا بنیادی مقصد تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا، شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بحال کرنا اور سمندر میں موجود بارودی سرنگوں کی صفائی کو یقینی بنانا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اس عالمی مشن کی قیادت کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے سفارتی اتفاق کو عملی فوجی منصوبے میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے پیرس میں ہونے والے 51 ممالک کے اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں آبنائے ہرمز کو فوری اور غیر مشروط طور پر کھولنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک دفاعی نوعیت کے کثیرالقومی مشن کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔
برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی کے مطابق یہ کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس کا مقصد آئندہ کے لیے ایک واضح اور مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور معیشت کا استحکام جہاز رانی کی آزادی سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس منصوبے کی کامیابی پوری دنیا کے لیے اہم ہوگی۔
آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے عالمی فوجی مشن کی تیاریاں تیز
