شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 7 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، جن میں زیادہ تر ڈرائی بلک ویسلز شامل ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی اور نگرانی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ڈیٹا اینالیٹکس کمپنیوں کے سیٹلائٹ تجزیے کے مطابق ان جہازوں میں عراقی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے جہاز بھی شامل تھے جبکہ ایک ڈرائی بلک ویسل ایرانی بندرگاہ سے روانہ ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں خطے میں تجارتی نقل و حمل کے تسلسل کو ظاہر کرتی ہیں، اگرچہ حالات غیر یقینی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے خلاف 13 اپریل کو نافذ کی گئی ناکہ بندی کے بعد اب تک 37 جہازوں کا رخ تبدیل کیا جا چکا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مبینہ طور پر ایرانی توانائی کی ترسیل کو محدود کرنا بتایا جا رہا ہے۔
ٹینکر ٹریکرز کے سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران کے 6 آئل ٹینکرز، جو تقریباً 10.5 ملین بیرل تیل لے جا رہے تھے، انہیں واپس ایرانی بندرگاہوں کی جانب بھیج دیا گیا۔ تاہم ایک اور تجزیے کے مطابق 24 اپریل کو تقریباً 40 لاکھ بیرل ایرانی تیل لے جانے والے کچھ ٹینکرز ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں معمولی رکاوٹ بھی عالمی منڈیوں پر بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے اس علاقے میں ہونے والی ہر پیش رفت کو عالمی سطح پر گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت جاری
