انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کا بڑا حصہ افزودہ یورینیم ممکنہ طور پر اب بھی اصفہان کے جوہری کمپلیکس میں موجود ہے، جسے ماضی میں فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایجنسی کے پاس سیٹلائٹ تصاویر موجود ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے اثرات کو ظاہر کرتی ہیں، تاہم مزید معلومات اب بھی سامنے آ رہی ہیں۔
گروسی کے مطابق یہ معاملہ عالمی سطح پر نہایت اہم ہے کیونکہ ایران کے جوہری پروگرام پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب جنگ کا آغاز ہوا تھا تو بڑی مقدار میں افزودہ یورینیم اصفہان میں ذخیرہ کیا گیا تھا اور ابتدائی شواہد سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مواد اب بھی وہیں موجود ہے۔
ایجنسی کی معلومات کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440.9 کلوگرام یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سطح اس حد کے قریب ہے جو جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار ہوتی ہے، کیونکہ ہتھیار بنانے کے لیے تقریباً 90 فیصد افزودگی کی ضرورت ہوتی ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر میں یہ بھی دیکھا گیا کہ جون 2025 میں جنگ شروع ہونے سے قبل متعدد ٹرک، جن پر نیلے رنگ کے کنٹینرز لوڈ تھے، اصفہان کے نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر میں ایک سرنگ کے اندر داخل ہوتے نظر آئے۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ حساس مواد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا تھا۔
گروسی نے عندیہ دیا کہ ایجنسی کو شبہ ہے کہ اس مجموعی مقدار میں سے تقریباً 200 کلوگرام افزودہ یورینیم خاص طور پر اصفہان کے مقام پر ہی موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اس صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے کیونکہ یہ معاملہ خطے اور دنیا کی سیکیورٹی سے جڑا ہوا ہے۔
ایران کا افزودہ یورینیم اب بھی اصفہان میں موجود ہونے کا دعویٰ
