ایران سے مبینہ طور پر منسلک ایک ہیکر گروپ نے خلیج فارس میں تعینات ہزاروں امریکی میرینز کی ذاتی معلومات کو لیک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے امریکی دفاعی حلقوں میں شدید تحفظات پیدا ہوئے ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ”ہنڈالا“ نامی ایک سائبر گروپ، جس کے ایران سے روابط بتائے جاتے ہیں، نے منگل کو دعویٰ کیا کہ اس نے خلیج فارس میں تعینات 2 ہزار 379 امریکی میرینز کی ذاتی معلومات جاری کردی ہیں گروپ نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر ایک پیغام میں کہا کہ اس نے اہلکاروں کے نام اور دیگر شناختی تفصیلات شائع کی ہیں، جبکہ اسے اپنی ”نگرانی کی صلاحیت“ کا ثبوت قرار دیا۔
عراقی میڈیا ادارے شفق نیوز کے مطابق خطے میں تعینات امریکی اہلکاروں کو واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغامات بھی موصول ہوئے، جن میں کہا گیا کہ وہ نگرانی میں ہیں اور انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے ہیکر گروپ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کے پاس مزید حساس معلومات بھی موجود ہیں، جن میں اہلکاروں کے اہل خانہ کی تفصیلات، گھریلو پتے، روزمرہ معمولات اور فوجی نقل و حرکت سے متعلق معلومات شامل ہیں اور عندیہ دیا کہ مزید انکشافات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد امریکی دفاعی اداروں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ فوجی اہلکاروں کی شناخت اور مقام ظاہر ہونے سے سیکیورٹی خطرات بڑھ سکتے ہیں حکام اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ڈیٹا لیک کس حد تک ہوا اور اس کے آپریشنل سیکیورٹی پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ہیکرز نے یہ معلومات کیسے حاصل کیں اور آیا مزید سسٹمز بھی متاثر ہوئے ہیں یا نہیں۔
یہی گروپ گزشتہ ماہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ ہیک کرنے کا دعویٰ بھی کرچکا ہے، جس میں اس نے مبینہ طور پر ان کی تصاویر اور ریزیومے بھی آن لائن شائع کیے تھے۔
