عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ امریکا جیسی بڑی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 8 سینٹ اضافے کے بعد 4 ڈالر 30 سینٹ فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی اوسط قیمت 5 ڈالر 50 سینٹ فی گیلن ریکارڈ کی گئی ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ عالمی سطح پر سپلائی میں رکاوٹ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث ہوا ہے۔
امریکی جریدے کے مطابق ایران سے متعلق تنازع کے بعد ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 46 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں پر پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی ڈرائیورز کے اخراجات میں بھی 44 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی سپلائی چین، مہنگائی اور توانائی کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے ممالک جو تیل درآمد کرتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال مزید مالی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور تیل کی سپلائی متاثر ہوتی رہی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر طویل مدت تک رہ سکتے ہیں۔
تیل کی عالمی قیمتیں بلند ترین سطح پر، امریکا میں بھی مہنگائی
