امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھا جا سکے، کیونکہ یہ معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ چین کو عالمی تجارت کے مفاد میں آبنائے ہرمز کی بحالی کی حمایت کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس میں رکاوٹ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق نیا نقشہ جاری کرتے ہوئے اپنی بحری حدود میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے دفاعی حدود کو قشم سے فجیرہ تک بڑھا دیا ہے، جس سے اس اہم آبی گزرگاہ پر اس کا اثر و رسوخ مزید مضبوط ہو گیا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایک امریکی جنگی جہاز کو جاسک جزیرے کے قریب دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
ایران نے اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس گزرگاہ کی سیکیورٹی اب مکمل طور پر اس کی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ بیانات اور اقدامات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز پر کشیدگی، امریکا کا چین سے ایران پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
