امریکی پاپ اسٹار برٹنی سپیئرز نے شراب و منشیات کے زیرِ اثر لاپرواہ ڈرائیونگ کا اعتراف کر لیا
برٹنی سپیئرزنے عدالت میں شراب اور منشیات کے زیرِ اثر لاپرواہ ڈرائیونگ کے الزام میں جرم قبول کر لیا ہے۔ تاہم وہ سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہیں ہوئیں بلکہ ان کے وکلا نے ان کی جانب سے درخواست جمع کرائی۔عدالت کے فیصلے کے مطابق گلوکارہ کو جیل کی سزا نہیں سنائی گئی بلکہ انہیں ایک دن کی قید دی گئی، جسے ان کی گرفتاری کے دن کے طور پر شمار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں ایک سال کی پروبیشن، ڈرنک ڈرائیونگ سے متعلق تربیتی کورس اور جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔44 سالہ گلوکارہ کی پروبیشن غیر رسمی نوعیت کی ہوگی، جس کے تحت انہیں باقاعدہ طور پر پروبیشن افسر سے ملاقات کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ان پر شراب اور کم از کم ایک منشیات کے زیرِ اثر گاڑی چلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ 4 مارچ کو کیلیوفورنیا میں پولیس نے انہیں تیز اور غیر محتاط ڈرائیونگ پر روکا تھا۔ گلوکارہ کو فیلڈ ٹیسٹ کے دوران متاثرہ حالت میں پایا گیا، جس کے بعد انہیں گرفتار کر کے جیل منتقل کیا گیا۔واقعے کے بعد ان کے نمائندے نے بتایا تھا کہ برٹنی سپیئرزنے رضاکارانہ طور پر بحالی مرکز (ری ہیب) میں داخلہ لے لیا تھا۔سماعت کے بعد ان کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "کوئی بھی جرم قبول کرنے پر خوش نہیں ہوتا، مگر موجودہ حالات میں یہ معاملہ ختم ہونا سب کے لیے بہتر ہے۔”دوسری جانب ڈسٹرکٹ اٹارنی کا کہنا تھا کہ گلوکارہ نے اپنے عمل کی مکمل ذمہ داری قبول کی ہے۔
