Baaghi TV

تھانہ جاتلی کی حدود لیاری بن گئی، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سرکاری ملازم قتل

گوجرخان جھونگل کے قریب سڑک کنارے لاش برآمد مقتول کی شناخت کشور عباس کے نام سے ہوگئی پولیس مصروفِ تفتیش نعش ٹی ایچ کیو منتقل
ایس ایچ او جاتلی کی کارکردگی سوالیہ نشان جرائم کی لہر تھم نہ سکی پولیس کاغذی کارروائیوں تک محدود شہریوں کا ایس ایچ او کے تبادلے کا مطالبہ
گوجرخان (قمرشہزاد)تھانہ جاتلی کی حدود جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہ بن گئی، پے در پے قتل کی لرزہ خیز وارداتوں نے راولپنڈی کے علاقے چونترہ کی طرح جاتلی کی حدود کو لیاری میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ علاقے میں بڑھتے ہوئے سنگین جرائم نے ایس ایچ او جاتلی کی کارکردگی پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جاتلی پولیس محض کاغذی کارروائیوں کے ذریعے فائلوں کا پیٹ بھرنے تک محدود ہو چکی ہے، جبکہ عملی طور پر تھانے کی حدود میں جان و مال کا تحفظ خواب بن کر رہ گیا ہے۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سمیت اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا نوٹس لیا جائے فی الفور ایس ایچ او جاتلی کا تبادلہ کرکے کسی کرائم فائٹر ایس ایچ او کی تعیناتی کی جائے۔ تازہ ترین واقعے میں درکالی کلاں کا رہائشی اور دولتالہ سرکاری ہسپتال کا ملازم نامعلوم ملزم، ملزمان کی فائرنگ کا نشانہ بن کر جان کی بازی ہار گیا۔ آئے روز کی قتل و غارت گری نے شہریوں کو شدید عدم تحفظ اور خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، تھانہ جاتلی کے علاقے جھونگل کے قریب ایک شہری نے 15 پر کال کے ذریعے پولیس کو اطلاع دی کہ سڑک کنارے ایک خون آلود لاش پڑی ہے۔ اطلاع ملتے ہی سب انسپکٹر حفیظ اللہ پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور نعش کو تحویل میں لے کر تحقیقات کا آغاز کیا۔ پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 30 سالہ کشور عباس ولد چن پیر شاہ سکنہ درکالی کلاں کے نام سے ہوئی ہے، جو دولتالہ ہسپتال میں ملازمت کرتا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول کا تعلق عامر شاہ مخالف گروپ سے بتایا جاتا ہے۔پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق کشور عباس کی موت فائرنگ کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے بعد نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان منتقل کر دیا ہے۔

More posts