Baaghi TV

ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:عالیہ رمضان

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں ہمیشہ سربلند رہیں جنہوں نے اتحاد و یگانگت کو اپنا شعار بنایا۔ جب افراد ایک مقصد کے تحت یکجا ہو جائیں تو بڑی سے بڑی طاقت بھی ان کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہے۔ “ہم بنیان مرصوص ہیں” ایک ایسا تصور ہے جو صرف الفاظ کی خوبصورتی نہیں بلکہ اجتماعی قوت، باہمی اعتماد اور استقامت کی عملی تصویر ہے۔

قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو اُس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر کھڑے ہوتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ یہی “بنیان مرصوص” کا حقیقی مفہوم ہے۔ ایسی مضبوط دیوار جس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ کا سہارا بنے۔ اگر ایک اینٹ کمزور پڑ جائے تو پوری دیوار متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر معاشرے کا ایک فرد کمزور ہو جائے تو اس کی کمزوری پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہے۔

افسوس کہ آج ہم اسی بنیادی اصول سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ذاتی مفادات، تعصبات اور انا پرستی نے ہمیں مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہم نے زبان، علاقے، مسلک اور نظریات کی بنیاد پر ایسی دیواریں کھڑی کر لی ہیں جنہوں نے ہمارے اتحاد کو کمزور کر دیا ہے۔ حالانکہ ترقی اور استحکام کا راستہ باہمی اتفاق اور یکجہتی سے ہو کر گزرتا ہے۔

اسلام نے ہمیشہ اخوت اور بھائی چارے کا درس دیا۔ ہمیں سکھایا گیا کہ مومن ایک جسم کی مانند ہیں، اگر جسم کا ایک حصہ تکلیف میں ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ یہی احساس ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور ہمیں اجتماعی قوت عطا کرتا ہے۔

شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

یہ شعر اس حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کرے۔ اگر ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھ لے تو کوئی طاقت قوم کو کمزور نہیں کر سکتی۔

تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جب مسلمانوں نے اتحاد کو اپنایا تو وہ ناقابلِ شکست قوت بن گئے۔ ان کے پاس وسائل کم تھے مگر ان کے دل ایک تھے، ان کا مقصد واضح تھا اور ان کے قدم ثابت تھے۔ یہی اتحاد ان کی اصل طاقت تھا۔ لیکن جب اختلافات نے جنم لیا تو زوال نے بھی راستہ پا لیا۔

آج اسی سبق کو دوبارہ یاد کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ انفرادی کامیابی عارضی ہو سکتی ہے مگر اجتماعی کامیابی دیرپا ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ترقی کرے تو ہمیں اپنی ذات سے بلند ہو کر اجتماعی بھلائی کے لیے سوچنا ہوگا۔

موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک بڑی طاقت ہے۔ یہ چاہے تو دلوں کو جوڑ سکتا ہے اور چاہے تو نفرتوں کو بڑھا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی تحریروں، گفتگو اور رویوں کے ذریعے مثبت سوچ کو فروغ دینا چاہیے۔ ایک اچھا لفظ، ایک مخلصانہ مشورہ اور ایک مددگار رویہ کئی دلوں کو قریب لا سکتا ہے۔

“ہم بنیان مرصوص ہیں” کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے کمزور بھائیوں کا سہارا بنیں۔ یتیموں، محتاجوں، مظلوموں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھیں۔ ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے ہر فرد کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔

اقبالؒ نے فرمایا:

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک

یہ اشعار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہماری اصل پہچان اتحاد میں ہے۔ جب ہم تقسیم ہو جاتے ہیں تو ہماری طاقت بکھر جاتی ہے، اور جب متحد ہوتے ہیں تو پہاڑوں کو بھی ہلا سکتے ہیں۔

اختلافِ رائے فطری ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا دانشمندی نہیں۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کریں اور مشترکہ مقاصد کے لیے مل کر کام کریں۔

آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم “میں” سے “ہم” کی طرف سفر کریں۔ اپنی انا کو چھوڑ کر اجتماعیت کو اپنائیں۔ محبت، رواداری اور اخوت کو فروغ دیں۔ کیونکہ مضبوط قومیں نفرت سے نہیں بلکہ اتحاد سے بنتی ہیں۔

آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے قول و فعل سے اس پیغام کو زندہ کریں گے۔ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے، ایک دوسرے کی طاقت بنیں گے اور عملی طور پر ثابت کریں گے کہ واقعی ہم بنیان مرصوص ہیں۔

More posts