عسکری و ریاستی اداروں نے ملک کو سنبھالا، اب سیاسی قیادت عوامی خدمت کا امتحان دے
وی آئی پی سیاست نہیں، عوامی خدمت وقت کی ضرورت — آنے والے انتخابات سے قبل جماعتوں کو خود کو بدلنا ہوگا
تجزیہ شہزاد قریشی
پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اندرونی استحکام، سیاسی سنجیدگی اور قومی یکجہتی کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ گزشتہ برسوں میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والے بحران، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود پاکستان نے جس تدبر اور حکمت عملی کے ساتھ اپنے مفادات کا دفاع کیا، اس میں بلاشبہ عسکری قیادت، سفارتی اداروں اور دیگر ریاستی اداروں کا اجتماعی کردار نمایاں رہا۔ ایک مربوط ٹیم ورک کے ذریعے نہ صرف پاکستان کو کئی بین الاقوامی چیلنجز سے نکالا گیا بلکہ دنیا میں پاکستان کا تشخص ایک ذمہ دار اور سنجیدہ ریاست کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آیا۔ آج پاکستان بعض اہم عالمی معاملات میں ثالثی اور مصالحتی کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم دوسری جانب ملک کی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ آنے والے انتخابات کی تیاری صرف جلسوں، نعروں اور میڈیا مہمات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی جماعتوں کی حقیقی تنظیم سازی پر توجہ دیں۔ سیاسی جماعتیں کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتی ہیں اور اگر انہی کے اندر انتشار، اقرباپروری، مفاداتی سیاست اور غیر سنجیدہ عناصر شامل ہوں گے تو جمہوریت کا اصل حسن متاثر ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اندر موجود ایسے عناصر کا احتساب کریں جو جماعتوں کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ان مخلص، باصلاحیت اور دیانت دار افراد کو آگے لائیں جو واقعی عوامی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست میں وی آئی پی اور پروٹوکول کلچر نے عوامی رابطے کو کمزور کیا ہے۔ سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی نمائندگی صرف عہدوں، تصاویر اور بیانات سے نہیں بلکہ میدان میں موجود رہنے، عوام کے مسائل سننے اور عملی خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔ جو لوگ خود کو جماعتوں کے مرکزی رہنما کہتے ہیں، انہیں اپنے کارکنوں اور زمینی حقائق سے رابطہ مضبوط کرنا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت ان کے کارکن اور عوامی اعتماد ہوتے ہیں، نہ کہ محض ٹی وی مباحث یا سوشل میڈیا مہمات۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی مقبولیت یا غیر مقبولیت کے بحث سے بالاتر ہو کر قومی سیاست کو سنجیدگی، نظریاتی وابستگی اور خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ عوام اب صرف نعروں سے متاثر نہیں ہوں گے بلکہ وہ کارکردگی، کردار اور خدمت کو ووٹ دیں گے۔ جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے کہ اقتدار کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا جائے، نہ کہ ذاتی تشہیر یا مفادات کا۔ اگر سیاسی جماعتیں واقعی مستقبل کی سیاست میں اپنا مقام مضبوط کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اپنی تنظیموں کو فعال، نظریاتی اور عوام دوست بنانا ہوگا۔ یہی مضبوط جمہوریت اور مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔
