Baaghi TV

ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:محمد ہشام علی ہاشمی

تاریخِ انسانیت کے طویل اوراق جب بھی پلٹے جاتے ہیں، ان میں کچھ باب ایسے ہوتے ہیں جو محض روشنائی سے نہیں بلکہ شہیدوں کے مقدس لہو اور غازیوں کے پرعزم پسینے سے لکھے جاتے ہیں۔ یہ وہ عظیم باب ہوتے ہیں جہاں حق اور باطل، روشنی اور تاریکی ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہوتے ہیں۔ حق، جو کبھی اپنی بقا کے لیے ظاہری تعداد یا مادی اسلحے کا محتاج نہیں ہوتا، اور باطل، جو ہمیشہ اپنے غرور اور تکبر کے نشے میں چور ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک عظیم الشان معرکہِ حق و باطل اس پاک سرزمین پر بھی آیا، جب رات کے اندھیرے میں بزدلی کی چادر اوڑھے، ایک مکار دشمن نے اس خام خیالی کے ساتھ حملہ کیا کہ وہ صبح کا ناشتہ ہمارے شہروں میں کرے گا۔ لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ اس کا واسطہ اس قوم سے ہے جس کے دلوں میں ایمان کی شمعیں روشن ہیں، اور جو میدانِ جنگ میں محض افراد کا ہجوم نہیں رہتے، بلکہ قرآن کی تفسیر کے عین مطابق ’’بنیان مرصوص‘‘ یعنی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جایا کرتے ہیں۔

وہ ایک خاموش رات تھی جب ہوائیں بھی سہم گئی تھیں۔ بھارت نے اپنے عددی غلبے اور ٹینکوں کے بے پناہ غرور میں اندھا ہو کر بین الاقوامی اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے پاکستان کی سرحدوں پر شب خون مارا۔ ان کا گھمنڈ آسمان کو چھو رہا تھا، ان کا خیال تھا کہ یہ نئی نویلی ریاست ان کے آہنی قدموں تلے کچل دی جائے گی۔ اچانک توپوں کی خوفناک گھن گرج نے رات کے سناٹے کو چیر کر رکھ دیا۔ آسمان سے آگ اور بارود کی بارش ہونے لگی۔ دشمن کا ٹڈی دل لشکر مستی میں آگے بڑھ رہا تھا، یہ سوچتے ہوئے کہ شاید چند گھنٹوں کی مار ہے اور یہ سبز ہلالی پرچم سرنگوں ہو جائے گا۔ مگر وہ بدبخت تاریخ کا یہ اٹل سبق فراموش کر بیٹھے تھے کہ جب مٹی کی سچی محبت اور ربِ ذوالجلال پر کامل یقین ایک نقطے پر ملتے ہیں، تو ایک ایسی طاقت جنم لیتی ہے جسے دنیا کی کوئی توپ نہیں توڑ سکتی۔

جیسے ہی جنگ کا بگل بجا، یہ قوم ایک جسمِ واحد کی مانند جاگ اٹھی۔ ماؤں نے مصلے بچھا لیے، اور اپنے جگر گوشوں کے ماتھے چوم کر دعاؤں کے سائے میں انہیں محاذِ جنگ پر روانہ کیا۔ بوڑھے باپوں کی آنکھوں میں فخر کی چمک ابھر آئی۔ سرحد پر کھڑے ہمارے شیر دل جوانوں نے جب دیکھا کہ دشمن ان کی دھرتی ماں کی طرف ناپاک قدم بڑھا رہا ہے، تو ان کی رگوں میں دوڑتا خون ابلتا ہوا لاوا بن گیا۔ وہ صرف فوجی نہیں تھے، وہ تاریخِ اسلام کے عظیم ہیروز کے وارث تھے۔ انہوں نے دشمن کی گولہ باری کے سامنے اپنے سینوں کو فولادی سپر بنا لیا اور واقعی ’’بنیان مرصوص‘‘ کی وہ زندہ تفسیر بن گئے جس کا ذکر کلامِ پاک میں کیا گیا ہے۔ ہر خندق ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بن گئی، ہر جوان ایک پوری فوج کا ججذبہ سمیٹ کر کھڑا ہو گیا۔

یہ معرکہ محض توپوں کا نہیں تھا؛ یہ تکبیر کی گونجتی صداؤں اور باطل کے کھوکھلے غرور کے درمیان ایک جنگ تھی۔ بی آر بی نہر کا بہتا پانی گواہ ہے کہ کس طرح وطن کے سرفروش جوانوں نے اپنے جسموں سے بارود باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے پرخچے اڑائے۔ چونڈہ کا میدان دشمن کی بکتر بند گاڑیوں کا قبرستان بن کر رہ گیا۔ فضاؤں میں ہمارے عقابوں نے وہ کمال دکھایا کہ دشمن کے جنگی طیارے بے بس ہو کر زمین بوس ہونے لگے۔ سمندر کی لہروں پر ہمارے غازیوں نے دشمن کے دلوں پر وہ ہیبت طاری کی کہ ان کے جہاز اپنے ہی ساحلوں پر محصور ہو گئے۔ ہر محاذ پر ایک ہی جنون کارفرما تھا: "یا غازی یا شہید”ہمارے فوجیوں کے پاس وہ روحانی وورثہ تھا جو انہیں ہارنے نہیں دے رہا تھا۔ وہ ایک ایسی دیوار بن چکے تھے جس سے ٹکرا کر دشمن کا ہر حملہ پاش پاش ہو رہا تھا۔ رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے والا بزدل دشمن اب دن کی روشنی میں اپنی جانیں بچا کر بھاگنے پر مجبور تھا۔

حق و باطل کا یہ خون ریز معرکہ بالآخر حق کی ایک شاندار اور فیصلہ کن فتح پر ختم ہوا۔ وہ دشمن جو لاہور میں فتح کا جشن منانے کے خواب دیکھ رہا تھا، اب عالمی برادری کے سامنے جنگ بندی کی بھیک مانگ رہا تھا۔ پاکستان کے ان غازیوں اور شہیدوں نے دنیا کی عسکری تاریخ کا رخ موڑ دیا اور ثابت کر ددیا کہ حتمی فتح مشینوں سے نہیں، بلکہ غیر متزلزل جذبوں اور رب کی نصرت سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس جنگ نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ پاکستانی قوم کوئی ریت کی دیوار نہیں جسے کوئی تیز جھونکا گرا دے، بلکہ یہ وہ ’’بنیان مرصوص‘‘ ہے جسے گرانے کا خواب دیکھنے والے خود مٹی میں مل جاتے ہیں۔

آج جب ہم ان شہیدوں کی قربانیوں کو دل میں بساتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا ایک ایک قطرہ خون ہم سے کلام کرتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب تک اس قوم کے دلوں میں اللّٰہ کی محبت اور دھرتی کا عشق زندہ ہے، دنیا کی کوئی طاقت اس ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم متحد رہیں، اور دشمن کے ہر وار کے سامنے وہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے رہیں۔ یہ پیارا وطن آج بھی ہم سے یہی تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں ایسا اتحاد پیدا کریں کہ دنیا کو بتا دیں کہ ہم ایک نظریاتی قوم ہیں، اور خدا کی قسم، ہم بنیان مرصوص ہیں۔

More posts