Baaghi TV

ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر:اقصیٰ جبار

قرآنِ کریم کی سورہ الصف کی آیت نمبر 4 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: *”بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں، گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار (بنیان مرصوص) ہوں۔”* یہ اصطلاح "بنیان مرصوص” محض ایک مادی دیوار کی عکاسی نہیں کرتی، بلکہ یہ اس فولادی اتحاد، یکجہتی اور ایمانی قوت کا استعارہ ہے جو کسی بھی قوم کو ناقابلِ تسخیر بنا دیتی ہے۔ "ہم بنیان مرصوص ہیں” کا نعرہ درحقیقت اس عہد کی تجدید ہے کہ جب حق اور باطل کا معرکہ درپیش ہو تو اہل ایمان کے درمیان کوئی دراڑ، کوئی رنگ و نسل کا فرق اور کوئی لسانی عصبیت حائل نہیں ہو سکتی۔

اسلام کی پوری عمارت ہی توحید اور وحدت پر قائم ہے۔ ایک اللہ، ایک رسول اور ایک قبلہ کی بنیاد پر جو معاشرہ تشکیل پاتا ہے، اس کی اصل طاقت اس کا باہمی اتحاد ہے۔ "بنیان مرصوص” وہ دیوار ہوتی ہے جس کی اینٹوں کے درمیان کوئی خلا باقی نہ رہے۔ جب مومنین کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور ان کے مقاصد ایک ہو جاتے ہیں، تو وہ دنیا کی بڑی سے بڑی مادی طاقت کے سامنے سینہ سپر ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان اس صفت سے متصف رہے، دنیا کی کوئی طاقت انہیں مغلوب نہ کر سکی۔
آج کے دور میں جب باطل طاقتیں نت نئے طریقوں سے اہل حق پر حملہ آور ہیں، "بنیان مرصوص” بننا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہ معرکہ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں، بلکہ یہ نظریاتی، معاشی اور علمی میدانوں میں بھی برپا ہے۔ دشمن کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ وہ صفوں میں انتشار پیدا کرے، فرقہ واریت کو ہوا دے اور گروہ بندیوں کے ذریعے ہمیں کمزور کرے۔ ایسے میں ہمارا یہ اعلان کہ "ہم بنیان مرصوص ہیں” اس بات کا ثبوت ہونا چاہیے کہ ہم اپنی چھوٹی چھوٹی رنجشوں کو پس پشت ڈال کر ایک عظیم مقصد کے لیے متحد ہیں۔
جس طرح سیمنٹ اینٹوں کو جوڑتا ہے، ایمان مومنین کے دلوں کو جوڑتا ہے۔
اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دینا ہی وہ مادہ ہے جو گروہ کو ایک جان بناتا ہے۔
صف بستہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنے قائد اور نظام کے تابع ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ مسلمان آپس میں جسم کی طرح ہے جس کے ایک حصے میں تکلیف سے تمام جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔”
موجودہ عالمی تناظر میں، جہاں انسانیت سسک رہی ہے اور اہل حق کو دیوار سے لگانے کی کوششیں جاری ہیں، ہمیں اپنے اندر وہی تڑپ پیدا کرنی ہوگی جو صحابہ کرام کے دور میں تھی۔ "بنیان مرصوص” بننے کا مطلب یہ ہے کہ اگر جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم اسے محسوس کرے۔ مظلوموں کی پکار پر لبیک کہنا اور ظلم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا ہی اصل بندگی ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ "بنیان مرصوص” بننا محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک شرعی مطالبہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معرکہ حق میں سرخرو ہوں اور اللہ کی محبت کے حقدار بنیں، تو ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں رنگ، نسل، زبان اور فرقے کے بتوں کو پاش پاش کر کے ایک ایسی دیوار بننا ہوگا جسے وقت کا کوئی طوفان نہ گرا سکے۔ ہماری بقا، ہماری عزت اور ہماری کامیابی صرف اور صرف "بنیان مرصوص” بننے میں ہی پنہاں ہے۔
بقول حضرت اقبال
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

More posts