Baaghi TV

ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں جان لڑانے اور خطرہ سہنے کے لیے تیار ہوں۔ اللّٰہ تعالیٰ کو جو فوج چاہیے۔ اس میں تین صفحات پائی جانی چاہئیں۔ ایک یہ کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر اللّٰہ کی راہ میں لڑے اور کسی ایسی لڑائی نہ لڑے جو کسی فی سبیل اللہ کی تعریف میں نہ آتی ہو۔ دوسری یہ کہ وہ بدنظمی انتشار میں مبتلا نہ ہو۔ بلکہ مضبوط کے ساتھ صف بستہ ہو کر لڑے۔تیسری یہ کہ دشمنوں کے مقابلے میں اس کی کیفیت "سیسہ پلائی سی کی سی ہو۔”

تاریخ شاہد ہے کہ ذلت ورسوائی ہمیشہ ان کے حصے میں آتی ہے جو پروپیگنڈا اور مادی برتری کے نشے میں بدمست ہو کر حیثیت سے بڑے خواب دیکھنے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ زمینی حقائق کیا ہیں۔ کچھ ایسا ہی ہمارے ہمسایہ ملک نے گزشتہ برس مئی میں کیا۔ پہلے پہلگام کا سانحہ کروایا پھر بنا تحقیق و ثبوت کے پاکستان پر الزام لگا دیا۔ اسی کو جواز بنا کر 7 مئی 2025 کو رات کے اندھیرے میں حملہ کر دیا۔ جواب میں پاکستان کا آپریشن بنیان المرصوص محض ایک عسکری جواب نہ تھا بلکہ تزویراتی انا کے منہ پر پڑنے والا وہ عالمی طمانچہ تھا جس کی حدت دشمن کے ایوانوں میں برسوں محسوس کی جاتی رہے گی۔ دشمن کی خام خیالی تھی کہ وہ سرحدوں پر مہم جوئی کرکے مغربی سرحدوں سے فتنۃ الخوارج کو مہرے بنا کر ارض پاکستان کی سالمیت سے کھلواڑ کر لے گا۔ مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا واسطہ اس سپہ سالار سے ہے جو سید بھی ہے حافظ قرآن بھی ہے۔ جس کے سینے میں قرآن ہو اس کے لشکر کا سکوت کسی مہیب طوفان کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اس کی ضرب کا کوئی مداوا نہیں ہوتا۔
ستیزہ کار ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی

جب سرحد پر فضائیں خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیں اور شب کی سیاہی دشمن کے ناپاک عزائم میں ضم ہو جائے تو ایک آواز گونجتی ہے۔ ایک عہد، ایک قسم اور ایک نعرہ پاکستان زندہ باد۔ یہ نعرہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ایک فوجی کا آخری سانس بن جاتا ہے جو وہ اپنے وطن پر وار دیتا ہے۔ یہ نعرہ ایک پائلٹ کا جگر ہے جو فضا میں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے کہ میں اقبال کا شاہین ہوں جو گرنا نہیں جھپٹنا جانتا ہوں۔ ہمارے محافظ دشمن کو بتاتے ہیں کہ یہ پاک دھرتی، یہ شہداء کے خون سے سینچی ہوئی دھرتی، یہ خطہ زریاب، یہ دھرتی لاوارث تو نہ تھی، یہ بزدلوں کا ٹھکانہ تو نہ تھی، یہ سڑک کے کنارے لگے درخت کا پھل تو نہ تھی۔ پھر کیوں میرا ہمسایہ 7 مئی کو رات کے اندھیرے میں اس پر چڑھ دوڑا۔ اس عیار کو یہ معلوم تھا کہ اس کے مذموم اور ناپاک ارادوں کو پاک فوج کے غیور، نڈر، جری اور جذبہ شہادت سے سرشار نوجوان ایک ہی وقت میں خاک میں ملا دیں گے۔

پاکستان نے 10 مئی 2025 کو آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا دشمن کے جدید جنگی نظام کو منجمد کرنے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ ان کے چھ رافیل طیارے زمیں بوس کرکے ایسے دانت کھٹے کیے کہ رہتی دنیا تک قند و شیریں اشیا کو منہ لگانے سے پہلے سو بار سوچے گا۔ جن ہتھیاروں پر جن طیاروں پر بھارت کو ناز تھا۔ ہمارے شاہینوں کی مہارت کے سامنے بے بس نظر آئے۔ معرکہ حق نے بھارت کو یہ واضح پیغام دیا کہ
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

معرکہ حق صرف ایک جنگ نہیں بلکہ فیصلہ کن موڑ تھا۔ جس نے پاکستان کی تقدیر کا رخ موڑ دیا۔ یہ معرکہ عزم و ہمت، حکمت عملی اور دلیر قیادت کا ایسا مظاہرہ تھا جس نے دنیا کو ایک مضبوط پیغام دیا۔ پاکستان نہ صرف اپنی خود مختاری کا دفاع کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ذمہ دار کردار ادا کر سکتا ہے۔ جس کی مثال حالیہ ایران امریکہ جنگ میں ثالثی کے کردار میں آپ کے سامنے ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور نظر انداز کیا جاتا تھا۔ معرکہ حق نے ثابت کیا کہ قومیں آزمائشوں میں نکھرتی ہیں اور یہی وہ لمحات ہیں جب پاکستان نے خود کو دنیا کے سامنے منوایا۔ آئیں سب مل کر اس عزم کا اعادہ کریں کہ ہم اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ اپنے وطن کی حفاظت کریں گے اور ہر سازش کا ناکام بنا دیں گے۔
وطن کی خاک گواہ رہنا، ہم نے یہ عہد نبھایا ہے
ہر دشمن کو للکارا ہے، ہر وار کو ٹھکرایا ہے

قومیں صرف جغرافیائی سرحدوں کا نام نہیں ہوتیں بلکہ وہ نظریات، اقدار اور قربانیوں کی امین ہوتی ہیں۔ جب کوئی قوم اپنے مقصد، اپنے نصب العین اور اپنی شناخت پر متحد ہو جائے تو وہ ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن جاتی ہے۔ تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ اتحاد میں طاقت ہے اور تفرقہ کمزوری کی علامت۔ “ہم بنیانِ مرصوص ہیں” دراصل اسی اتحاد، استقامت اور مضبوطی کی علامت ہے جو کسی بھی معرکۂ حق میں کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔
بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر کھڑے ہوتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

More posts