صومالی قزاقوں کی جانب سے اغوا کیے گئے تیل بردار جہاز کے عملے کی رہائی کے لیے تاوان کی رقم میں بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد یرغمال بنائے گئے افراد کے اہلخانہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ جہاز پر پاکستانی شہریوں سمیت مختلف ممالک کے افراد موجود ہیں جن کی زندگیوں کو خطرات لاحق بتائے جا رہے ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق صومالی قزاقوں نے تیل بردار جہاز “ایم ٹی یوریکا” پر قبضہ کر رکھا ہے اور اب انہوں نے یرغمال عملے کی رہائی کے لیے تاوان کی رقم بڑھا کر 10 ملین ڈالر کر دی ہے۔ اس سے قبل قزاقوں نے 3 ملین ڈالر کا مطالبہ کیا تھا، تاہم مذاکرات میں تعطل آنے کے بعد رقم میں اچانک اضافہ کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق جہاز پر پاکستان کے 11 شہری بھی موجود ہیں جبکہ 8 مصری ملاح بھی اغوا کاروں کے قبضے میں ہیں۔ مغویوں کے اہلخانہ مسلسل اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے فکرمند ہیں اور حکومتوں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اغوا ہونے والے تھرڈ انجینئر محمد راضی عبدالمنعم کے بھائی احمد راضی نے میڈیا کو بتایا کہ چند روز قبل ان کے بھائی کی مختصر فون کال موصول ہوئی تھی جس میں اس نے بتایا کہ جہاز کی مالکانہ کمپنی اور قزاقوں کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے تھے، مگر بعد میں حالات مزید خراب ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی نے بتایا کہ جہاز پر موجود افراد شدید خوف اور دباؤ کا شکار ہیں اور ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اہلخانہ نے مصری اور بین الاقوامی حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ یرغمالیوں کو بحفاظت رہا کرایا جا سکے۔
دوسری جانب مغوی انجینئر کی اہلیہ امیرہ محمد نے کہا کہ کمپنی کی جانب سے تاوان ادا نہ کرنے کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اغوا کار پہلے مختصر فون کالز کی اجازت دیتے تھے لیکن مذاکرات رکنے کے بعد رابطے بھی محدود ہو گئے ہیں۔
مصری وزارت خارجہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے موغادیشو میں مصری سفارت خانے کو ہدایت جاری کی ہے کہ مغوی ملاحوں کی حفاظت اور جلد رہائی کے لیے صومالی حکام سے مسلسل رابطہ رکھا جائے۔
صومالی قزاقوں کا تاوان دگنا، پاکستانیوں سمیت عملے کی زندگی خطرے میں
