امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے دوران امریکی وفد کی جانب سے غیر معمولی سکیورٹی اقدامات سامنے آئے ہیں، جہاں واپسی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی تمام اشیا وہیں تلف کر دیں۔
امریکی وفد کے ساتھ موجود صحافی ایملی گڈان نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ائیر فورس ون میں سوار ہونے سے پہلے امریکی عملے نے چینی حکام کی جانب سے دیے گئے شناختی کارڈز، عارضی برنر فونز اور دیگر سامان ایک ڈبے میں جمع کر کے پھینک دیا۔
رپورٹ کے مطابق چین کی طرف سے دی گئی کسی بھی چیز کو امریکی طیارے میں لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے اس دورے کے دوران سخت سائبر سکیورٹی پروٹوکولز پر عمل کیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ چینی سکیورٹی سسٹمز کے ذریعے الیکٹرانک جاسوسی کی جا سکتی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وفد کے کئی اراکین اپنے ذاتی موبائل فونز اور لیپ ٹاپس ساتھ لے کر ہی نہیں گئے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہیکنگ یا نگرانی کے خطرے سے بچا جا سکے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ چینی ٹیکنالوجی یا نیٹ ورکس کے ذریعے ذاتی ڈیوائسز کا ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے، اسی لیے دورے کے دوران خصوصی برنر فونز استعمال کیے گئے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی، تجارتی تنازعات اور سائبر سکیورٹی خدشات کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں عدم اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں کے اعلیٰ سطحی دوروں کے دوران اس نوعیت کے سکیورٹی اقدامات غیر معمولی ضرور ہیں، لیکن موجودہ عالمی حالات میں حساس معلومات کے تحفظ کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کے ساتھ چین جانے والے امریکی عملے نے دی گئی تمام اشیا وہیں پھینک دیں
