ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق مزید تین ایرانی آئل ٹینکرز امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جس کے بعد ایران کی تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق یہ ٹینکرز کامیابی کے ساتھ ایرانی آئل اسٹوریج نظام میں شامل کر لیے گئے ہیں۔
آئل شپمنٹ کی نگرانی کرنے والی کمپنی “ٹینکر ٹریکرز” کے مطابق تینوں ٹینکرز نے ناکہ بندی سے بچنے کیلئے مختلف حکمت عملیاں استعمال کیں۔
رپورٹس کے مطابق ایک ٹینکر نے اپنا خودکار ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا، جبکہ دوسرے ٹینکر پر ایرانی پرچم کی جگہ روسی پرچم لہرایا گیا۔
تیسرے ٹینکر نے عمان کے ساحلی راستے کو استعمال کرتے ہوئے اپنی نقل و حرکت جاری رکھی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ متعدد بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کے خارگ جزیرے پر تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
تاہم ٹینکر ٹریکرز کی تازہ نگرانی رپورٹ کے مطابق ایران اب بھی ایک ماہ سے زائد مدت تک تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران مسلسل متبادل راستے، مختلف جھنڈوں اور جدید سمندری حکمت عملیوں کے ذریعے اپنی تیل برآمدات جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ اور بحری تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود مزید 3 ایرانی آئل ٹینکرز کامیاب
