لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں اسکولوں کیلئے تین ماہ کی موسم گرما کی تعطیلات کے خلاف دائر درخواست پر پنجاب حکومت اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست پر جسٹس خالد اسحاق نے سماعت کی۔
عدالت نے فوری طور پر طویل تعطیلات کے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کر لیا۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ 90 دن کی طویل تعطیلات سے بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہوگی اور تعلیمی نقصان میں مزید اضافہ ہوگا۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین کاشف مرزا نے سوال اٹھایا کہ سندھ اور خیبرپختونخوا میں صرف دو ماہ کی چھٹیاں دی گئی ہیں تو پنجاب میں تین ماہ کی تعطیلات کیوں دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے دیگر نجی تعلیمی اداروں کے نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں پنجاب حکومت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بچوں کو تعلیم سے دور کرنے کے مترادف ہے۔
کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر مختلف وجوہات کے نام پر مسلسل تعلیمی سرگرمیاں متاثر کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران سموگ، ڈینگی، ایندھن بچاؤ اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر تقریباً 173 دن اسکول بند رہے جبکہ اب مزید 90 دن کی تعطیلات سے طلبہ کا بنیادی حق متاثر ہوگا۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ اگر حکومت سمر کیمپ کی اجازت دے سکتی ہے تو باقاعدہ تعلیمی سیشن جاری رکھنے میں کیا رکاوٹ ہے۔
پنجاب میں 3 ماہ کی گرمیوں کی چھٹیوں کے خلاف درخواست، حکومت کو نوٹس جاری
