وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو ہدایت جاری کی ہے کہ خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبوں کو آٹے اور گندم کی ترسیل میں حائل تمام رکاوٹیں فوری طور پر ختم کی جائیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی نے خیبرپختونخوا حکومت کو ایک خصوصی واٹس ایپ نمبر فراہم کیا ہے جہاں آٹا اور گندم ڈیلرز ترسیل میں رکاوٹ کی صورت میں ویڈیوز اور تصاویر شیئر کر سکیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا جس میں وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین، چاروں صوبوں کے سیکرٹریز خوراک، خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ اور چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث صوبے میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وفاقی حکومت اور پنجاب حکام کو متعدد بار آگاہ کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب سیکرٹری فوڈ پنجاب نے مؤقف اپنایا کہ پنجاب حکومت نے گندم یا آٹے کی بین الصوبائی ترسیل پر کوئی پابندی عائد نہیں کی۔
اس پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے سوال اٹھایا کہ اگر پابندی نہیں تو پھر خیبرپختونخوا میں آٹے کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے واضح ہدایت دی کہ خیبرپختونخوا کو گندم اور آٹے کی ترسیل میں حائل رکاوٹیں فوری ختم کی جائیں تاکہ بحران پر قابو پایا جا سکے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ پنجاب آئینی طور پر گندم اور آٹے کی ترسیل نہیں روک سکتا جبکہ بلوچستان میں 100 کلو آٹے کی بوری خیبرپختونخوا کے مقابلے میں سستی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ پابندیاں ختم کر کے ترسیل کو جلد معمول پر لایا جائے گا۔
وفاق نے پنجاب کو گندم اور آٹے کی ترسیل میں رکاوٹیں ختم کرنے کی ہدایت کر دی
