مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ کی مسلمانوں کے خلاف بربریت اور سفاکیت عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایک منظم استحصال کے تحت جنگلات کی زمین قرار دے کر 60 کنال پر مشتمل قبائلی برادری کے درجنوں گھروں کو مسمار کر دیا گیا ہے۔
بھارتی جریدے ‘دی ٹیلی گراف آن لائن’ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے وزیرِ جنگلات جاوید رانا نے اس کارروائی کو وحشیانہ اور متعصبانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسلمان ان وراثتی زمینوں پر کئی دہائیوں سے رہائش پذیر ہیں اور اس مسماری کا مقصد ایک منظم اور ظالمانہ بے دخلی سے مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا ہے۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ قابض انتظامیہ کی یہ ظالمانہ کارروائیاں خوف کی فضا قائم رکھنے اور آبادیاتی توازن بدلنے کی سازش ہیں، جس پر عالمی برادری مزید خاموش نہیں رہ سکتی۔
