بھارت کی ریاست بہار میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، ویڈیو میں ایک شخص کو خواتین اور کم عمر بچیوں کے سامنے ٹرک پر لگی خواتین کی تصاویر والے پوسٹرز کے ساتھ انتہائی نازیبا حرکت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد خواتین کے تحفظ، معاشرتی رویوں اور جنسی ہراسانی کے بڑھتے واقعات پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس واقعے کو خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی ذہنی اور سماجی پسماندگی کی علامت قرار دیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر خواتین عوامی مقامات پر لگے پوسٹرز میں بھی محفوظ نہیں تو حقیقی زندگی میں ان کے تحفظ کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کئی افراد نے اس حرکت کو “نفسیاتی بیماری” اور “خطرناک ذہنیت” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق جب تصاویر تک کو جنسی انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ مستقبل میں سنگین جرائم کے خطرے کی نشاندہی بھی ہو سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے سے متعلق مختلف ردِعمل سامنے آئے ہیں، جہاں صارفین نے بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم، ہراسانی اور جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ظاہر کی۔ بعض افراد نے کہا کہ ایسے رویوں کو ابتدا ہی میں سخت سزا دے کر روکا نہ گیا تو یہ مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتے ہیں،بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق حالیہ برسوں میں متعدد واقعات خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں، جن میں ہراسانی، چھیڑ چھاڑ اور جنسی تشدد کے کیسز شامل ہیں،اجتماعی زیادتی کے واقعات بھی مسلسل سامنے آتے رہتے ہیں،خواتین کی عزت بھارت میں کہیں بھی محفوظ نہیں، ہندوستان کو اسی لئے ریپستان بھی کہا جاتا ہے، سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ صرف آن لائن غصے کے اظہار سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ تعلیمی، سماجی اور قانونی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ خواتین اور بچیوں کے خلاف نفرت، ہراسانی اور جنسی رویوں کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
