اہم شخصیات کا ڈیٹا چند ہزار روپے کے عوض فروخت کرنے والا گینگ جنوبی پنجاب سے پکڑا گیا ہے
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی این سی سی آئی اے سید خرم علی نے بتایا ہے کہ آج کل کے زمانے میں ڈیٹا سیکیورٹی انتہائی اہم ہے ،جنوبی پنجاب سے گینگ پکڑا ہے جو پاکستان کے سینیئر عہدوں پر فائز افراد کا ڈیٹا فروخت کرتا تھا ،ہم نے ابتدائی طورپر چار افراد پر مشتمل گینگ کو گرفتار کیا ہے ،تحقیقات کررہے ہیں کہ ان افراد کو ڈیٹا فراہم کون کررہا تھا،کسی صورت بھی کسی کا ذاتی یا اداروں کا ڈیٹا لیکن کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ،گرفتار افراد میں دو خواتین اور ان کی بیویاں شامل ہیں،یہ عناصر نہ صرف عام شہریوں کا حساس ڈیٹا بلکے حساس اور خفیہ ڈیٹا بھی فروخت کررہے تھے ،غیر ملکی افراد خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ پیسوں کے عوض ملٹری اور سول اداروں کے افسران کا ڈیٹا بھی شیئرنگ کرتے تھے ،ملزمان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز کردیا ہے،کچھ لوگ سب معلوم ہونے کے باجود او پی ٹی کوڈ شیئر کردیتے ہیں جس سے واٹس ایپ ہیک ہوجاتا ہے ،شہریوں کو محتاط رہنا چاہئے لوگون کو اس حوالے سے شعور کی ضرورت ہے،صحافیوں کی ہم قدر کرتے ہیں،لیکن جو لوگ ملک کے خلاف وی لاگ کرتے ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر ہونی چاہئے،ڈیٹا لیکیج اور ذاتی معلومات بیچنے پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، تمام اداروں کو مطلع کر رہے ہیں کہ ڈیٹا بیچنے پر کارروائی کی جائے، شہریوں کا ذاتی ڈیٹا بیرونِ ملک ایجنسیوں کو فراہم کیا جا رہا ہے،تحقیقات کررہےہیں کہ ان افراد کو ڈیٹا فراہم کون کررہا تھا
ڈی جی این سی سی آئی اے نے بتایا کہ اداکارہ مومنہ اقبال کیس کو لاہور آفس دیکھا رہا ہے، مومنہ اقبال کیس مہینوں نہیں دنوں میں مکمل ہو گا،صحافی نے سوال کیا کہ این سی سی آئی اے نے اداکارہ کی شکایت پر کارروائی میں تاخیر کی، جس پر ڈی جی این سی سی آئی سید خرم علی نے کہا این سی سی آئی اے نے کوئی تاخیر نہیں کی،مومنہ اقبال خود کراچی میں تھیں جیسے ہی لاہور آئیں کارروائی کا آغاز ہو گیا،
