Baaghi TV


پاکستان کو ایک اور خطرناک مون سون اور سیلابی خطرات کا سامنا

‎اسلام آباد: عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو آئندہ مون سون سیزن کے دوران ایک بار پھر شدید سیلابی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر متوازن بارشیں اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
‎یورپی یونین، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اقوام متحدہ کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کی گئی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر آفات سے نمٹنے کی تیاریوں میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔
‎رپورٹ کے مطابق 2010 سے 2025 کے درمیان سیلابوں کے باعث پاکستان کو 50 سے 55 ارب ڈالر تک کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے اکیلے ہی 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا، جبکہ 2010 کے سیلاب سے تقریباً 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ گزشتہ سال کے سیلاب سے بھی 2.9 ارب ڈالر یعنی تقریباً 822 ارب پاکستانی روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔
‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑی آفات، جن میں سیلاب اور زلزلے شامل ہیں، ہر سال پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کا 3 سے 4 فیصد نقصان کر رہی ہیں۔ گزشتہ سال بارشیں معمول سے 23 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئیں، جس نے تباہی میں مزید اضافہ کیا۔
‎عالمی اداروں کے مطابق گزشتہ 15 برسوں میں پاکستان 6 بڑے اور مجموعی طور پر 12 سیلابی واقعات کا سامنا کر چکا ہے۔
‎رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ اگرچہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں بہت کم حصہ ڈالتا ہے، اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
‎رپورٹ میں پاکستان کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام میں کئی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں ابتدائی وارننگ سسٹمز کی ناکامی، امدادی معلومات کی بروقت فراہمی میں مسائل، وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطوں کا فقدان، ادارہ جاتی کمزوریاں اور انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال کے لیے فنڈز کی کمی شامل ہیں۔
‎عالمی اداروں نے سفارش کی ہے کہ پاکستان فوری ردعمل کے بجائے پیشگی منصوبہ بندی پر توجہ دے، موسمیاتی خطرات کو ترقیاتی منصوبوں کا حصہ بنایا جائے، ڈیزاسٹر فنڈنگ کا نیا نظام متعارف کرایا جائے اور غریب، خواتین اور متاثرہ طبقات کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے۔

More posts