ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے 11 مختلف کمپنیوں کی 17 آٹو ڈس ایبل سرنجز کو غیر معیاری قرار دے کر ان کی فروخت اور استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔
ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ میڈیکل پراڈکٹ الرٹ کے مطابق ان سرنجز کے نمونوں کی جانچ سینٹرل ڈرگ لیبارٹری اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی میں کی گئی، جہاں یہ مصنوعات معیار پر پوری نہ اتر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق 3 سے 5 ایم ایل کی یہ سرنجز “آٹو ڈس ایبلیٹی ٹیسٹ” میں ناکام رہیں، جس کا مطلب ہے کہ استعمال کے بعد ان کا خودکار طور پر ناکارہ ہونے والا نظام درست طریقے سے کام نہیں کر رہا۔
حکام کے مطابق ان سرنجز کو دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جو صحتِ عامہ کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی جیسے موذی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ڈریپ نے بتایا کہ ان غیر معیاری سرنجز کی تیاری میں چین، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ دو چینی کمپنیوں کے تیار کردہ تین بیجز بھی متاثرہ فہرست میں شامل ہیں۔
ریگولیٹری اتھارٹی نے تمام صوبائی حکومتوں، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹ میں موجود متاثرہ بیجز فوری ضبط کیے جائیں۔
ڈریپ نے فیلڈ فورس کو ملک بھر میں مارکیٹ سروے کرنے اور ان سرنجز کی سپلائی روکنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
اس کے علاوہ مینوفیکچررز، امپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ سرنجز فوری طور پر مارکیٹ سے واپس منگوائیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ غیر معیاری سرنجز کا استعمال پاکستان میں پہلے سے موجود ہیپاٹائٹس اور دیگر متعدی بیماریوں کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتا ہے، اس لیے عوام کو صرف مستند اور محفوظ طبی مصنوعات استعمال کرنی چاہئیں۔
ڈریپ نے 17 غیر معیاری سرنجز پر پابندی لگا دی
