امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی شروع ہونے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 3.10 ڈالر یا 4.08 فیصد اضافے کے بعد 79.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 2.95 ڈالر یا 4.11 فیصد بڑھ کر 74.36 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ اس خدشے کے باعث ہوا ہے کہ جاری کشیدگی آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق جنگ سے قبل دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے خام تیل کا تقریباً 20 فیصد آبنائے ہرمز کے راستے منتقل کیا جاتا تھا، اسی لیے اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال پر عالمی منڈی کی گہری نظر ہے۔
واضح رہے کہ امریکی فوج نے ایران پر مزید حملے شروع کردیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف مزید حملوں کا آغاز کر دیا ہے سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری بحری جہازوں اور تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے پیر کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے تاہم ایران نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ ایک جہاز غیر منظور شدہ راستے سے گزرا تھا اور اسے نشانہ بنائے جانے کے بعد آبنائے کو بند کر دیا گیا۔
جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل اسی آبنائے سے ہوتی تھی جہازوں کی نگرانی کر نے والی کمپنی کلیپر کے اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو صرف 6 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو گزشتہ پانچ ہفتوں میں سب سے کم تعداد ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ ایک عبوری معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور مزید 60 روزہ مذاکرات کے بعد جنگ ختم کرنا تھا لیکن حالیہ حملوں نے اس معاہدے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں بتایا کہ معاہدے کے بعد جون میں عالمی تیل کی سپلائی میں 41 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ ہوا، تاہم یہ جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی 94 لاکھ بیرل یومیہ کم ہے۔
آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سیکامور نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں نسبتاً محدود اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ موجودہ صورتحال کو ایک کمزور جنگ بندی کے دوران کشیدگی میں اضافے کے طور پر دیکھ رہی ہے، نہ کہ مکمل جنگ بندی کے خاتمے کے طور پر،یہ اندازہ کتنا درست ہے، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔
