Baaghi TV

اے ایمان والو !تقویٰ اختیار کرو اور صرف اللہ سے ڈرو، خطبہ حج

khutba hajj

مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے امام مسجد نبوی ﷺ عبدالرحمان الحذیفی نے کہا کہ رب کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، تقویٰ اختیار کرو اور صرف اللہ سے ڈرو،تقوی اختیار کرنے والوں کو جنت کی نوید سنائی گئی ہے،آج کے دن کثرت کے ساتھ دعائیں کی جائیں۔

امام مسجد نبوی ﷺ عبدالرحمان الحذیفی کا خطبہ حج دیتے ہوئے کہنا تھا مسلمانوں کو کسی بھی مشکل میں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، توحید پر عمل درآمد ایمان کا حصہ ہے اور نبی کریم ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں، تمام گناہ چھوڑ کر قیامت کے دن کی تیاری کی جائے، قیامت کے دن آنے میں کوئی شک نہیں،کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہرایا جائے، رب کے سوا کسی غیر کی عبادت مت کرنا، عہد کی پاسداری کرو ،ایمان والوں کے سا منے اللہ کی آیات پیش کی جائیں تو ان کے دل نرم پڑ جاتے ہیں۔

شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے کہا کہ مسلمان توحید کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ،یہ وہ عظیم جگہ ہے جہاں اللہ نےاپنا پاک کلام نازل فرمایا نبی اکرم ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں، نبی اکرم ﷺ خاتم النبین ہیں، مسلمانوں کو ہر مصیبت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے، صبر کرنے والوں کیلئےاللہ تعالیٰ نے اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے،ہمیشہ سچ بولیں اور غلط بیانی سے گریز کریں-

خطبہ میں کہا گیا کہ اللہ فرماتا ہے سب نےمیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے، اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے حجاج دنیا کے دور دراز علاقوں سے آئے ہیں، حج اللہ کے سامنے جھکنے اور نبی کریم ﷺکی پیروی کرنے کا نام ہے، اللہ کا فرمان ہے کہ ہمیشہ جھوٹ بات سے بچو۔

امام مسجد نبویﷺ علی عبدالرحمان الحذیفی نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھائیں ،جن قوموں نے ظلم کیا اور ناشکری کی ان سے نعمتیں چھین لی گئیں،اللہ اور بندے کا تعلق نجات کا ذریعہ ہے،اے ایمان والوں ، اپنے رب کے ساتھ جڑے رہو،حج کے دوران کسی قسم کی لڑائی جھگڑے سے اجتناب کرنا چاہئے، کسی بھی ایسے عمل سے گریز کریں جس سے وحدت کو نقصان پہنچے، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے حالات پر رحم فرمائے۔

امام الحج نے حجاج کرام کو ہدایت کی کہ وہ مناسکِ حج بہترین انداز میں ادا کریں، ہر لمحہ مغفرت کی دعا کرتے رہیں اور عرفات سے روانگی کے بعد مزدلفہ جائیں جہاں اللہ کے ذکر اور عبادات میں مشغول رہیں خطبے کے اختتام پر امتِ مسلمہ، مسلم دنیا کے مسائل، امن و استحکام، مسلمانوں کی ہدایت، گناہوں کی مغفرت اور اعمال کی قبولیت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

More posts