امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھولنا ہوگا اور عالمی بحری آمدورفت کی بحالی ناگزیر ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی معاہدے کی زبان اور تفصیلات طے کرنے میں ابھی چند دن لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج قطر میں اہم مذاکرات ہوئے ہیں اور ابتدائی دستاویز میں استعمال ہونے والے مخصوص الفاظ اور شرائط پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پیشرفت ضرور ہوئی ہے لیکن ابھی کئی تکنیکی اور سفارتی معاملات طے ہونا باقی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ “آبنائے ہرمز کو کھلنا ہوگا، جس طرح بھی ممکن ہو، یہ کھلنی ہی چاہیے۔”
سیاسی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت عالمی سیاست اور معیشت کا اہم ترین مرکز بنی ہوئی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی تیل منڈی، معیشت اور تجارتی سرگرمیوں پر مزید بڑھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب مارکو روبیو نے یوکرین کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت امریکا اور یوکرین کے درمیان کوئی فعال یا حتمی مذاکرات جاری نہیں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی موجودہ توجہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ایران مذاکرات اور خطے میں استحکام پر مرکوز ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق قطر میں ہونے والے حالیہ مذاکرات آنے والے دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی بنیاد بن سکتے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی کئی حساس معاملات زیر بحث ہیں۔
آبنائے ہرمز ہر صورت کھلے گی، امریکا کا واضح مؤقف
