ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان ابوالفضل شکارچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت یا خلاف ورزی کا جواب خطے سے باہر تک پھیل سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ کوئی کارروائی کی گئی تو تہران کا ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ شدید، طاقتور اور مختلف نوعیت کا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج نے ممکنہ اہداف کی نشاندہی پہلے ہی کر لی ہے اور کسی بھی نئی صورتحال کا فوری اور مؤثر جواب دینے کیلئے مکمل تیاری موجود ہے۔
ترجمان ایرانی مسلح افواج کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ابوالفضل شکارچی نے مزید کہا کہ اگر ایران کی تیل برآمدات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو ایران بھی خطے سے تیل کی ترسیل کا راستہ بند کر دے گا۔
سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز، ایران امریکا مذاکرات اور خطے کی سکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کیلئے انتہائی اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے باوجود خطے میں فوجی تیاریوں اور سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایران نے نئی جارحیت پر سخت اور وسیع ردعمل کی دھمکی دے دی
