Baaghi TV


ابراہیمی معاہدہ سرنڈر کی دستاویز ہے، حافظ نعیم الرحمان

naeem

‎امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے ابراہیمی معاہدے کو “سرنڈر کی دستاویز” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو قانونی شکل دینے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
‎اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ امریکی صدر ایک بار پھر مسلم ممالک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ ابراہیمی معاہدے کا حصہ بن جائیں۔
‎انہوں نے کہا کہ بیت المقدس اور فلسطین کے مسئلے پر کوئی بھی ایسا فیصلہ قبول نہیں کیا جا سکتا جو فلسطینی عوام کے حقوق اور مسلم اُمہ کے مؤقف کے خلاف ہو۔
‎امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ابراہیمی معاہدہ دراصل اسرائیل کے قبضے کو مضبوط بنانے اور فلسطینیوں کی جدوجہد کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
‎حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے “ناجائز مطالبات” کو واضح طور پر مسترد کرنے کا اعلان کریں۔
‎انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف ایک خطے کا معاملہ نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے ایمان اور غیرت کا مسئلہ ہے۔
‎جماعت اسلامی کے سربراہ نے مزید کہا کہ پاکستان کا تاریخی اور اصولی مؤقف ہمیشہ فلسطینی عوام کے حق میں رہا ہے اور اس پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کی جائے گی۔
‎سیاسی مبصرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ابراہیمی معاہدے سے متعلق حالیہ بیانات نے پاکستان سمیت مختلف مسلم ممالک میں نئی سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔
‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے معاملے پر پاکستانی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا مؤقف ہمیشہ حساس اور سخت رہا ہے۔
‎دوسری جانب حکومتِ پاکستان کی جانب سے ابراہیمی معاہدے سے متعلق کسی نئی پالیسی یا موقف کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

More posts